...
یعنی جون ایلیا فری پُک ڈاونلوڈ
یعنی جون ایلیا فری پُک ڈاونلوڈ
مرتب: جون ایلیا
شاعر کا نام:جون ایلیا
کتاب کا نام :یعنی
زبان:اردو
سرورق:شاہد رسام
ترمیم و اضافه: خالد احمد انصاری
تعداد:ایک ہزار
148 :صفحات جلد اول,دوم
مشاورت:سید حسن عابد ، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، سید ممتاز سعید سید سلیم ساجد کرن، آغا وسیم اور ندیم آغا
قیمت:300 روپے
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

اپنی بہن سیدہ شاہ زناں نجفی اور بھائی سید محمد عباس کے نام
جو گزاری نہ جاسکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
معروضہ
جون صاحب کی خواہش تھی کہ اپنے پہلے شعری مجموعے شاید کی طرح وہ اس مجموعے پر بھی ایک تفصیلی دیباچہ لکھیں۔ انھوں نے کوئی دو سال پہلے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ شدید ناتوانی تھی یہ لکھا نہیں جاتا تھا۔ چند سطریں ممکن ہوتیں کہ قلم ہانپنے لگتا پھر انھوں نے مجھ سے کہا۔ ” میری جگہ بھی کچھ لکھ دو، جیسا تم نے نصف صدی، اپنے ہوش سے مجھے دیکھا ہے، بس جتنا تم جانتے ہو، وہی کچھ لکھ دو۔
جون صاحب پر لکھنا میرے بس میں نہیں تھا۔ وہ میرے چچا، بڑے بھائی ، میرے دوست، رازداں اور میرے استاد تھے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا ، کہاں سے شروع کروں گا اور کہاں تک لکھنا چاہیے۔ میں طرح طرح کے عذر کرتا رہا۔ کسی سے اتنے رشتے ہوں اور کوئی کسی کے وجود کا حصہ وہ جب مشاعرے میں پڑھتے تھے تو دل اپنا دھڑکتا تھا۔ میری کوتاہیوں پر وہ مجھے سرزنش کرتے رہتے تھے اور میں انھیں ان کی بے اعتدالیوں پر دھمکاتا ، ڈانٹتا رہتا تھا۔ ایک زمانے میں، کچھ غلط فہمیوں کی ایسی صورت پیدا ہو گئی تھی کہ انھوں نے میرے خلاف بھی لکھا۔ وہ ایسے ہی تھے، ایک دم بھڑک جانے والے، کانوں کے کچے ، حد درجے سینے میں آگ پالنے والے ۔ شک اور بدگمانیاں ان کا خاصہ تھا لیکن ریشم کا وہ دھاگا کبھی نہ ٹوٹ سکا جس سے ہم دونوں بندھے ہوئے تھے۔ وہ مجھ سے پہلے چلے گئے ۔ یہ خیال کیے بغیر کہ میں کتنا آدھا، ادھورا رہ جاؤں گا۔ کئی برس سے وہ خود سے نبرد آزما تھے۔ کوئی ارادہ ہی اُس مُشت استخواں کو منضبط رکھے ہوئے تھا۔ ایک شمام وہ جنگ ہار گئے ۔
میں ان کے اس دوسرے مجموعے یعنی کے لیے کچھ نہ لکھ پایا اور انھیں بھی احساس ہو گیا کہ میرے لیے یہ کام کیسا مشکل ہے۔ انھوں نے میری رہ نمائی کے لیے چار صفحوں پر مشتمل نکات تحریر کسی طور قلم بند کیے اور بہ طور خاص دو نام لکھے کہ ان صاحبان کا شکریہ بہر حال ادا کرنا ہے۔ ایک حماد غزنوی تھے، دوسرے انیق احمد ۔ یہ چار صفحے جوں کے توں یہاں نقل کرنے سے قاصر ہوں۔ اس میں کچھ میری ان کی باتیں تھیں۔ ہدایت تھی کہ مجھے کیا، کن خطوط پر لکھنا ہے۔ یہ کوئی با قاعدہ مضمون نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ اُڑی اُڑی ، بکھری بکھری کی ایک تحریر تھی ۔
آن لائن پڑھیے

جون صاحب کی شاعری پر مجھے کچھ نہیں کہنا۔ میں اس کا اہل ہوں نہ سکت رکھتا ہوں۔ میں خود ستائی کیا کروں اور خود پر تنقید کا حوصلہ کہاں سے لاؤں۔ اپنے آپ پر کوئی کیا لکھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے پاس شاید جیسے 14 مجموعوں کے بہ قدر کلام موجود ہے۔ میں اُن سے کہتا تھا کہ اپنی حالت دیکھیے ۔ کسی دن ہوا اُڑا لے جائے گی۔ اپنے سامنے یہ سارا کچھ چھپوالیں۔ طے کر لیجے کہ کم از کم ہر چھ مہینے بعد ایک مجموعہ آنا چاہیے۔ آپ کا شمار تو ان چند خوش قسمت شعرا میں ہوتا ہے جن کے کلام کے لیے ناشرین ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر وہی ہوا۔ سب دیکھتے رہ گئے ۔
انھوں نے سارا کلام اپنے ایک عقیدت مند نوجوان کے سپرد کر دیا تھا کہ وہ مجھے پہنچا دے اور میں اُسے کمپیوٹر میں محفوظ کرلوں ۔ ان کے اُس نیاز مند کو مجھ تک آنے میں کچھ دیر لگ گئی۔ ادھر جون صاحب کا اضطراب ہوا ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے ہفتے بھر بعد چلے گئے۔ وہ سارے مسودے اب اُس ، شاید مجھ سے زیادہ مستحق ، نوجوان کی تحویل میں ہیں اور وہ آدھے رجسٹروں کی اپنے پاس موجودی کے اعتراف کے باوجود انکاری ہو گیا ہے۔ میں اُس سے منتیں کرتا رہا اور اب ہار گیا ہوں ۔ جون صاحب کے بے شمار عاشقوں میں ایک وہ بھی مدعی تھا۔ غالباً اسی نے خود کوئی کارنامہ انجام دینے کی ٹھان لی ہو۔ کاش یہی خوش گمانی درست نکلے ۔ جون صاحب کا کلام، کسی طرف اور کسی طور سے کہی ، آنا چاہیے۔ وہ کلام جو ایک شاعر ایک عالم، ایک مفکر ، ایک سرکش ایک عاشق اور سودائی کی زندگی کا حاصل ہے۔
مجھے معاف کر دیجیے۔ اُن کے جانے کے بعد اس مجموعے کی اشاعت میں تاخیر کی تمام تر کوتا ہی میری ہے۔ مجھ سے یہ چند سطریں ہی نہیں ہو پا رہی تھیں ۔ اب بھی جانے کس طرح ممکن ہوئی ہیں۔ یہ میں ہی جانتا ہوں۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.