...
توجہ کی طالب بانو قدسیہ
توجہ کی طالب بانو قدسیہ
سن اشاعت :1999
شاعر کا نام: بانو قدسیہ
کتاب کا نام :توجہ کی طالب
زبان :Urdu
مقام اشاعت :لاہور, پاکستان
ناشر :سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
ذیلی زمرہ جات :کہانیاں/ افسانے
موضوعات :خواتین کی تحریریں, افسانہ
صفحات :780
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

ہو نقش اگر باطل
شادی شدہ زندگی وہ بجلی ہے جس میں لوڈ ہمیشہ زیادہ پڑتا ہے اور کسی لمحے کسی جگہ کسی بھی حالت میں اس کا فیوز بھک سے اڑ جانے کے امکانات ہیں۔ شادی کے دو ماہ تین کے بعد سات سال تین ہفتے گزر جانے پر ستائیس سال اور نو گھنٹے کی مدت کے بعد عرضیکہ کسی وقت بھی اچانک ین سوئچ نیوز ہو سکتا ہے اور مشکل یہ ہے کہ نیا فیو کبھی پرانی تارے نہیں لگتا۔ اس کے لئے ہمیشہ نیا تار لگانا پڑتا ہے ۔ میری اور عطیہ کی زندگی میں یہ نیا تار برقی زیبا تھی۔
بچے جب بھی شرارت کرتے ہیں کنڈ سے بند کر لیتے ہیں۔ میاں بیوی جب بھی چوری چوری کسی اور سے محبت کرتے ہیں غسلخانےاور لیوڑی میں نہیں سوچتے۔ ایک دوسرے کے پاس لیٹ کر فرار ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسی محبت سے منکر ہو جاتے ہیں۔ مجھے سب سے پہلے زمبا کا خیال اس وقت آیا جب میں شیو کے بعد آئینے میں تولئے سے منہ پونچھ رہا تھا ۔ یہ خیال اس تازہ زخم کی طرح تھا جو نئے بلیڈ نے میری ٹھوڑی پر ڈالا تھا اور جس میں سے ٹھہر ٹھہر کر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد لو رستاتھا۔
کچھ کبھی طے ہی نہیں کیا۔ ہم تو اپنی اپنی آگ میں اپنے اپنے شبہات میں، اپنی اپنی نیک نیتی میں یوں بھلتے رہے جیسے فاسفورس ٹھنڈی آگ میں روشن رہتا ہے ۔ ہم تینوں نے بڑی مضعداری محبت نے ، بڑے خلوص سے ایک دوسرے کی زندگی تباہ کر دی ۔
نیکیاں نیکیوں کو مجروح کرتی ہیں۔
محبت نے محبت کا گلا گھونٹ دیا۔
شرافت نے بڑی شرافت سے جان لے لی ۔
ہم تینوں کو ایک دوسرے کے دل کا اس قدر خیال تھا کہ بالاآخر اس خیال نے نینوں دل کھرل میں ڈال کر کشتہ بناڈالے۔
آن لائن پڑھیے

عطیہ میری زندگی میں اس طرح آئی جیسے ساون میں بارش برستی ہے اور جس بارش سے پر نئے ٹوٹ جاتے ہیں۔ چھتیں بیٹھ جاتی ہیں اور سڑکوں پر متعفن پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔
ز ما میری زندگی میں وہ گلاس بھر پانی بن کر آی جو ریگستان میں تپی ہوئی دو پہر کے وقت لمتا ہے اور جس پر کسی دشمن کی سنگین پورہ میں کھڑی ہوتی ہے۔ عطیہ میرے جسم کا، میری غلطیوں کا میری عادتوں کا مجموعہ تھی اور زمباوہ سائیکلوانیلسٹ تھی جس کے سامنے مجھے اپنے وجود سے اپنی غلطیوں سے اپنی عادتوں سے اپنی انا سے چھٹکارا حاصل کرنے کے امکانات نظر آتے تھے ۔
کبھی کبھی لوٹ کر دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہر شادی کو غالباً روز مرہ کی وہ زندگی کھا جاتی ہے جو قطرہ قطرہ زہر گھولتی ہے جس طرح زیادہ میٹھے پھل میں خود بخود سندی پیدا ہو جاتی ہے شادی کے پکے ہوئے اردو میں بھی اپنے آپ وہ کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جن کا اور جیسی خوبصورت چیز کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیۓ

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.