...
تنہا تنہا احمد فراز
تنہا تنہا احمد فراز
نسخے: 04
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :تنہا تنہا
زبان:اردو
چھاپ:جون ۱۹۸۱
به اهتمام: والی آسی
قیمت:۱۵۰
141 :صفحات جلد اول,دوم
سن اشاعت:۲۰۱۱
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

ضیا الدین ضیا کے نام
ہاں ، مگر کوئی تمنا پس دامان وفا
مجھ سے پوشیدہ مرے پیش نظر ہوتی ہے
غزلیں
ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے,دوست جب ٹھرے چمن کے دشمنِ جانِ بہار,کچھ ایسے ہم نے خرا بے بسائے شہروں میں,جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد,تیری باتیں ہی سنانے آئے, ہر شاخ چمن کی جل رہی ہے, نشہ گیسوئے شب تاب کہاں ,کیا رخصت یار کی کھڑی تھی,گوارا بھی سہی جو دکھ ترے ہیں, کسی کو گماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے,اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں, رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے,ان کے وعدوں پہ یقیں لوگ بھی دیوا نے ہو,تم زمانہ آشنا تم سے زمانہ آشنا ,ہم بھی خود دشمن جاں تھے پہلے,سکوت شب ہی ستم ہو تو ہم اُٹھائیں بھی,وہ قول وہ سب قرار ٹوٹے,انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں, قافلے گزرے ہیں زنجیر بہ پا، کس قدر آگ برستی ہے, ہر ہم سفر ہے آبلہ پا دیکھتے رہو, کٹھن ہے راہگزر تھوڑی دور ساتھ چلو, اس ادا سے کبھی آکر گزرو

سکوت شب ہی تم ہو تو ہم اُٹھائیں بھی, وہ قول وہ سب قرار ٹوٹے,انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں, قافلے گزرے ہیں زنجیر بہ پا, قاتل کے قصے مقتل کی باتیں ہیں,کس قدر آگ برستی ہے,کٹھن ہے راہگزر تھوڑی دور ساتھ چلو,اس ادا سے کبھی آکر گزرو, جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے,اُداس اور زیادہ کہیں نہ ہو جائیں,کچھ نہ کسی سے بولیں گے,سکرت بن گے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں، غیر سے تیرا آشنا ہونا، تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ، میری حالت ہے کہ احساس طرب ہے کوئی ، اب جو کانٹے ہیں دل میں تمناؤں کے پھول تھے

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.