...
شاید جون ایلیا پک فری ڈاونلوڈ
شاید جون ایلیا پک فری ڈاونلوڈ
نسخے: 02
شاعر کا نام:جون ایلیا
کتاب کا نام :شاید
زبان:اردو
موضوعات:
شاعری
ناشر :
ایلیا اکادمی، کراچی
ذیلی زمرہ جات:مجموعہ
312 :صفحات
معاون:جامعہ ہمدردہلی
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

نیاز مندانہ
یہ میرا پہلا مجموعہ کلام یا شاید پہلا اعتراف شکست ہے جوانتیس تیس برس کی تاخیر سے شائع ہو رہا ہے۔ یہ ایک ناکام آدمی کی شاعری ہے۔ یہ کہنے میں بھلا کیا شرمانا کہ میں رائیگاں گیا۔ مجھے رائیگاں ہی جانا بھی چاہیے تھا۔ جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزار نے کا کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وه رایگاں نہ جاتا تو اور کیا ہوتا۔
اب سے انتیس تیس برس پہلے میں نے اپنے بچپن کے دوست، قمر رضی سے وعدہ کیا تھا کہ میرا پہلا مجموعہ تمہی چھپواؤ گے مگر میں نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا۔ اس کے بعد ۱۹۷۱ء میں میرے بھانجے سمن (ممتاز سعید) اور محمد علی صدیقی نے میرے مجموعے کا مواد مرتب کر کے میرے حوالے کیا تاکہ میں اسے چھپوادوں مگر میں نے ان کی خواہش بھی پوری نہیں کی۔ اس کے بعد زاہدہ حنا نے سب سے زیادہ کاری کارروائی کی۔ میری جو نظمیں اور غزلیں ان کے ہاتھ لگیں، انہوں نے انکی کتابت شروع کرادی مگر میں نے باقی چیزیں انہیں فراہم نہیں کیں۔ چنانچہ ان کی کوشش بھی بے نتیجہ رہی۔ اس کے کئی برس بعد میرے بھائی اور دوست معراج رسول نے مجموعے کی اشاعت کا ایک شان دار برنامہ بنایا مگر میں اپنی دس برس کی عذاب ناک بے خوابی اور اپنے دماغی دوروں کے باعث اس قابل نہیں تھا کہ اپنا مجموعہ مرتب کر سکوں.
…آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنا کلام نہ چھپوانے میں آخر اتنا مبالغہ کیوں کیا ؟ اس کی وجہ میرا ایک احساس جرم اور روحانی توئیت ہے، جس کی روداد میں آگے چل کر سناؤں گا
یہاں میں اپنے ان محسنوں ، اپنے ان محبوب اور محترم محسنوں کے نام گنانے کی مسرت حاصل کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میری تباہ کن اور عذاب ناک بیماری میں میری غم گساری اور دل داری کی۔ اگر وہ میری غم گساری اور دل داری نہ کرتے تو مجھے نہ ارسطو اور شیخ الرئیس کی منطق خود کشی سے بچا سکتی تھی نہ بیکن اور مل کی منطق وہ محبوب و محترم نام یہ ہیں۔ قبلہ و کعبہ پروفیسر کرار حسین برادر محترم سید عابد علی شاه، یار عزیز حسن امام جعفری، عزیز القدر اقبال مهدی (مشهور مصور ) برادر دل جو معراج رسول، عزیزی سلطان کاظمین ، عزیز عزیزاں شمس الدین صدیقی ، مونس شام بیزاری جمال احسانی، برادر مکرم جناب منظور احمد ( ڈھاکا) ، جناب جمیل الدین عالی، میرا ہم مشرب ندیم اختر حبيبي حفیظ با حلیم اور بھائی احمد الطاف ۔
آن لائن پڑھیےحصہ اول

آن لائن پڑھیےحصہ دوم

ء کا ذکر ہے ، میری حالت گذشتہ دس برس سے سخت ابتر تھی۔ میں ایک نیم تاریک کمرے کے اندر ایک گوشے میں سما بیٹھا ہتا تھا۔ مجھے روشنی سے، آوازوں سے اور لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔ ایک دن میرا عزیز بھائی سلیم جعفری مجھ سے ملنے آیا۔ وہ چند روز پہلے دبئی سے کراچی آیا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ جون بھائی، میں آپ کو فرار اور گریز کی زندگی نہیں گزار نے دوں گا۔ آپ نے مجھے میرے لڑکپن سے انقلاب کے، عوام کی فتح مندی اور لا طبقاتی سماج کے خواب دکھاتے ہیں۔ میں نے کہا: تجھے معلوم ہے کہ میں سالہا سال سے کس عذاب میں جتلا ہوں ؟ میرا دماغ ، دماغ نہیں، بھویل ہے۔ آنکھیں ہیں کہ زخموں کی طرح چپکتی ہیں۔ اگر پڑھنے یا لکھنے کے لیے کانڈ پر چند ثانیوں کو بھی نظر جماتا ہوں تو ایسی حالت گزرتی ہے جیسے مجھے آشوب چشم کی شکایت ہو اور ماہ تمون میں جہنم کے اندر جہنم پڑھنا پڑرہا ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ میں اب بھی اپنے خوابوں کو نہیں ہارا ہوں۔ میری آنکھیں دیکھتی ہیں مگر میرے خوابوں کے خنک چٹے کی لہریں اب بھی میری پلکوں کو چھوتی ہیں۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.