...
شمیم فیاض احمد
شمیم فیاض احمد
نسخے: 02
شاعر کا نام: فیاض احمد
کتاب کا نام :شمیم
زبان:اردو
ہمانشو پبلی کیشنز: ویشا کھا انکلیو، پیتیم پور، دہلی
قیمت:220
صفحات : 320
سن اشاعت:2008
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

بارہواں باب
نواب ذو الفقار علی خاں خاص لکھنو کے رہنے والے نہ تھے ان کے والد ایک بڑی ریاست کے وزیر رہ چکے تھے اور وہ خود ایک سیاست کے رکن اعظم تھے ۔ ان کے پاس کئی لاکھ کی جائیداد تھی اور کئی لاکھ نقد تھا ۔ ہیر ہے اور جواہرات کی بھی ایک بڑی تعداد ان کے پاس تھی ۔
نسیم کے یہاں جب ذوالفقار علی خان کی بیگم (جن کا نام ملیقیں جہاں سیم تھا۔ شیم کی والدہ سے ملنے گئیں تو ایسے ایسے میٹر رہا زیورات پہن کر گئیں کہ رابعہ خاتون (شمیم کی والدہ) کی آنکھیں کھنی گئیں ۔ ہوش اُڑ گئے۔ ایسے زیورات انہوں نے اب تک کبھی اپنی زندگی میں دیکھے تو کیا قصے کہانیوں میں ۔ ) اپنی میں نہ سنے تھے۔ بلقیس جہادی میگیم کی پوشاک بھی بہت قیمتی اور پر تکلف تھی وہ دل کی بہت اچھی تھیں مگر عورتوں کے عالم گیر مرض ، نمائش کا ان پر بھی پورا پورا اثر تھا کوئی ان کی تعریف کرتا تھا تو بہت خوش ہوتی تھیں اور اکثر خود اپنی تعریفیں کیا کرتی تھیں وہ خود بھی ایک بڑے تعلق یار کی بیٹی تھیں اندر بہت کچھ جائیداد اور نقدا اپنے ساتھ جہیز میں لائی تھیں وہ اپنے بچوں میں سب سے زیادہ ماد طلعت کو چاہتی تھیں بلکہ اس پر عاشق و فریفتہ تھیں اسکی ذراسی خواہش بھی رو کر دنیا ان کی شریعت میں گناہ کبیرہ تھا اس کے سر میں گرند ا بھی دھمک بھی ہو جاتی تو بے چین ہو جائیں اور حکیم ڈاکٹروں کے لئے موٹریں دوڑ نے لگتیں ۔ مگر ذو الفقار علی خان پر دہ بری طرح حادی تھیں گوزو الفقار علی خاں کبھی اس کا اعتراف ہمراز احباب کی صحبت میں بھی نہ کرتے تھے اور کسی کو یقین آتا کہ وہ شخص جو لاکھوں دو ر امیر حکومت کرے اپنے گھر کی چار دیواری میں حکومت کرنا تو در کنار ایک معمولی عورت کا فرمانبردار غلام ہو مگر یہ دنیا کے عجائبات ہیں جن سے دنیاکبھی خالی نہیں رہ سکتی
آن لائن پڑھیے

ادھررابعہ خاتون کا یہ حال تھا کہ امیروں سے بہت مرغوب ہو جاتی تمھیں دولت کی خواہش انہیں ہمیشہ بے چین کئے رہتی تھی اور شروع ہی سے وہ قسم کھائے ہوئے تھیں کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے شمیم کی شادی کسی شاہزادی سے کر کے اپنا اپنا گھر آباد کر کروں گی۔ اور شمیم کے والد خان بہادر حبیب اللہ کو بھی دنیا اور زینتیں بہت عزیز تھیں اور شادی وغیرہ کے معاملات میں وہ اپنی بیوی سے بنایت مودبانہ صلاح لئے بغیر رائے قائم کرنے کی جرات نہ کرتے تھے ۔ نہ معلوم پڑھا پےمیں لوگ اپنی بیوں سے اتنا کیوں ڈرنے لگتے ہیں ۔
شاید یہ کوئی خدا کی قدرت ہو یا انسان کی حمادتت باپ ماں کا تو یہ رنگ تھا مگر شمیم کا یہ حال تھا کہ اسے اپنے والد اور خاص کر اپنی ماں سے انتہا محبت تھی ان کی مرضی پر فدا تھا اور ان کی ذرا سی تکلیف دیکھ کر بے قرار ہو جاتا تھا اس کو وہم وگمان بھی نہ تھا کہ میرے والدین میں کوئی معیوب بھی ہو سکتے ہیں ہے رابعہ خاتون سے وہ اس درجہ مانوس تھا کہ ہر وقت گھر جانے کے واسطے بیچین رہتا تھا۔ جیسا وہ علی گڑھ کالج میں تھا تو آئے دن چھٹی لے کر گھر پہنچا کرتا اور ماں باپ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتا تھا ۔ وہ اکثر اوقات بطہ تفنن طبع رندانہ مشرب اختیار کئے رہتا مگر اس کے دل میں ڈرکا خوف اور ندیم رب کی محبت تھی اس لئے والدین کے حقوق کا وہ بے حد معترف تھا اور اس کو تعجب ہوتا تھا کہ کو ئی اپنے باپ یا ماں کے حکم کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.