...
شاخ نہال غم احمد فراز
شاخ نہال غم احمد فراز
نسخے: 01
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :شاخ نہال غم
زبان:اردو
ناشر:جگر اکیڈمی (رجسٹرڈ) ، کانپور،
مرتب: عشرت ظفر
قیمت:۲۰۰
صفحات جلد اول: 246
کمپیوٹر کمپوزنگ:پرنٹ ٹریڈ انڈیا ۸۸/۴۴۴، چمن گنج ، کانپور
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

انتساب
نکته شناس سخن ، آبشار مهر و خلوص
الحاج جناب ارشاد مرزا کے نام
آں مہرباں کہ آبروئے ہفت کشور است
حرف سبز
شاخ نہال غم ، بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کے فن و شخصیت پر بنی مضامین کی ایک مبسوط دستاویز ہی نہیں بلکہ جگر اکیڈمی کانپور کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ان دستاویزات کی وہ مضبوط کڑی ہے جس میں جناب کوثر جائسی، جناب شارق اسرایانی جناب فنا نظامی اور جناب جلیل فتح پوری شامل ہیں۔ یہ کتابیں بالترتیب شائع ہو چکی ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ سال جو جگر اکیڈمی کا گولڈن جبلی سال ہے اس میں جناب جگر مراد آبادی کے فن و شخصیت پر مبنی ایک مبسوط وقیع اور شاہر کار کتاب شائع کی جائے گی۔ زیر نظر کتاب ‘ شاخ نہال غم ہر نقطہ نظر سے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں ہندو پاک کے مشاہیر قلم کاروں ناقدوں اور نثر نگاروں کے کم و بیش ۲۳ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ جن میں جناب وارث علوی ، مظہر امام ، پروفیسر لطف الرحمن ، رفعت سروش ، نامی انصاری ، ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد ، ظفر احمد نظامی ، ظہور الدین، حمید اللہ صدیقی، امتیاز الدین، بلراج کومل ، صادق، اوصاف احمد مخمور سعیدی، معصوم شرقی ، عشرت ظفر ، احمد ندیم قاسمی، عبد القوی ضیاء ، ڈاکٹر انور سدید، طاہر محمد خان ضمیر جعفری، رحیم گل اور حامد میر خاص ہیں۔ ان اہم لکھنے والوں نے اپنے مضامین میں ہر پہلو سے احمد فراز کے فن اور شخصیات کا جائزہ لیا ہے ۔ ہم نے جس تگ و تاز اور کاوش سے ان مضامین کو جمع کر کے اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے قارئین اس سلسلے میں ہمارے حوصلوں کی ضرور داد دیں گے۔ احمد فراز اور جگر اکیڈمی کے سر پرست اعلیٰ الحاج ارشاد مرزا صاحب میں جو نظریاتی اور دینی گہرا ربط تھا۔ اس سے لوگ واقف ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جگر اکیڈمی کے زیر اہتمام ہونے والے سالانہ مشاعروں میں احمد فراز تین بار کانپور تشریف لائے اور باشندگان کانپور نے بالمشافہ ان کو دیکھا اور ان کا کلام سنا ۔ 25 اگست 2008 کو احمد فراز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رحلت کر گئے۔ حالانکہ اس بار کے سالانہ مشاعرے میں بھی ان کی شرکت متوقع تھی مگر مشیت ایزدی کچھ اور ہی تھی۔
آن لائن پڑھیے

احمد فراز کی شاعری کے کئی پہلو ہیں ایک طرف اگر وہ جمالیات و رومانیت کے شاعر تھے تو دوسری طرف ان کے لہجے میں بغاوت اور احتجاج بھی خوب تھا کیونکہ ان کے زمانے میں پورا بر صغیر سیاسی انقلاب سے دو چار رہا۔ خاص طور پر پاکستان کی فوجی حکومتیں جنہوں نے قلم کاروں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا۔ احمد فراز کا مزاج ان کی شاعری میں ریشم کی طرح نرم بھی ہے اور آئین کی طرح سخت بھی ہے۔ ان دونوں عناصر نے مل کر ان کی شاعری میں ایک انفرادی رنگ پیدا کر دیا تھا۔ اس کتاب میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے ہر شعر کا رنگ شامل ہو ۔ احمد فراز ہند و پاک دوستی کے بیحد خواہاں تھے۔ ان کی شاعری کا یہ جذبہ بھی قابل مطالعہ ہے۔ اسی لیے یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایک مبسوط دستاویز اہل ذوق کو پیش کی جا سکے۔ ہمارا ادارہ جگر اکیڈمی جو اپنی عمر کی نصف صدی پوری کر رہا ہے اس کی کارکردگی اس کے استقلال میں اس کے کام کرنے والوں کا یعنی اس کے اراکین کا سب سے اہم مقام ہے جنہوں نے ہمیں ہمیشہ مفید مشوروں سے نوازا۔ ہمارے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا۔ اس سلسلے میں جناب توفیق احمد ، جناب سلیم عنایتی، جناب یوسف علوی، جناب عبد الحمید شیخ یہ انتہائی اہم اور ممتاز شخصیتیں ہیں جو اکیڈمی کے لیے ایک شجر سایہ دار سے کم نہیں ۔ ان کی موجودگی ہمیں ہمیشہ یہ احساس کراتی ہے کہ ہم ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے ہیں اور فتنہ زمانہ کیدھوپ ہم تک نہیں پہنچ سکتی ہے۔ آخر میں میں یہ عرض کروں گا کہ شاخ نہال غم کو نقطہ تکمیل تک پہنچانے میں ان سب حضرات کا پر خلوص تعاون رہا ہے

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.