...
سامان وجود بانو قدسیہ
سامان وجود بانو قدسیہ
زبان :اردو
شاعر کا نام: وجود بانو قدسیہ
کتاب کا نام :سامان وجود
صفحات :103
موضوعات :خواتین کی تحریریں, افسانہ
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

ابن آدم
جمیلہ اب کینچوے کی طرح کبھی آگے کبھی پیچھے سوچنے لگی تھی۔
کبھی دل میں خیال اٹھتا کہ بے جی کو ان کے کئے کی سزا کیوں نہ ملی؟ اللہ آخری لمحے تک ان پر کیوں مہربان رہا؟ پھر اس خیال پر گہرا پچھتاوا اٹھتا کہ میں بھی کیسی اولاد ہوں، اپنی ماں کے لئے میرے دل میں کیسے برے برے خیال اٹھتے ہیں۔ میں ان کی سزا کے لئےکیسا الٹا ارمان رکھتی ہوں۔
ایسے میں جمیلہ احساس جرم تلے پستی، اپنے سے جھگڑتی اور پھر جھلا جھل فرافر آنسو اس کے گالوں پر پھیلتے۔ بہت سال سے دولت کی ریل پیل نے اس کے مسائل آسان کر دیے تھے اور آنسو وافر تعداد میں یوں نہ بہتے تھے
لیکن بے جی کو معاف نہ کر سکنے پر اس کے دل میں اپنے ہی خلاف غم و غصے کی جو کیفیت اٹھتی، اس پر بھی اسے اختیار نہ تھا۔ ایسے میں اپنے آپ کو کوستی، ماں جی پر ترس کھاتی تو بے تحاشا آنسو فرش پر گرنے لگتے۔ احساس جرم فتنہ پرور اسے پینے لگتا۔
تب بھی سنگ مرمر کے چکنے فرش پر جابجا جمیلہ کے آنسو بوند بوند پھیلے تھے۔ شاہد دفتر جانے لگا تو ڈریسنگ ٹیبل کے قریب بریف کیس رکھتے ہوئے اس نے پوچھا : ” یہ فرش پر پانی کے قطرے کیسے ہیں، جمیلہ ؟”
جمیلہ، تین جوان بچوں کی ماں، چپ چاپ پلنگ پر لیٹی رہی۔ برسوں سے وہ ناشتے کی میز پر نہ جاتی تھی۔ شاہد کب اور کیسے تیار ہو کر بزنس آفس جاتا اس کی اسے خبر نہ تھی۔
اپنے پیارے ملازموں سے کہئے جب پانی اندر لائیں تو احتیاط برتیں۔ فرش کی ساری خوبصورتی ذرا سی گرد اور تھوڑے سے پانی سے برباد ہو جاتی ہے۔ “ شاہد کے نتھنے پھڑ پھڑائے۔ وہ خشکی باز نہیں تھا لیکن ذراسی کشیدگی میں اس کے نتھنے نمونیا کے مریض کی طرح لرزنے لگتے ۔ اس نے بریف کیس اٹھایا اور رنکھا سا بغیر سلام دعا کے رخصت ہو گیا۔
آن لائن پڑھیے

اصل میں شاہد کا مسئلہ بھی سنگ مرمر پر پانی کے چھینٹوں کا نہیں تھا۔ وہ بھی اپنی تجویزوں کے گرداب میں گھمن گھیری کھا رہا تھا۔ اس کا بزنس ایک عرصے سے کامیابی کی رکاب پکڑے سرپٹ بھاگتا رہا۔ وہ ایک فیکٹری نے دوسری کی جانب بڑے حوصلے اور فیکٹری نے دوسری کی جانب بڑے جو ملے اور ثابت قدمی سے بڑھا۔ جاپان اور جرمنی کی کئی فرموں سے اس کا بزنس چل رہا تھا۔ اس وقت اس کی بارہ فیکٹریاں اور کئی پلازے تعمیر ہو چکے تھے۔ پھر وہ سٹاک ایکسچینج کا ممبر بھی تھا، وہاں کی آمدنی بے تحاشا تھی۔ سی این این پر وہ کئی بار بزنس نیوز کا حصہ بن چکا تھا۔
جمیلہ ہر طرح سے اس کی نصف بہتر تھی۔ جو سی ٹیشن کروٹ لیتا وہ کاروباری طبقے میں سب سے پہلے رہن سہن اور آرائش بدل کر صف اول میں آجاتی۔ سال بھر پہلے جب جمیلہ نے چپس کے پختہ فرش تڑوا کر سارے گھر میں اطالوی سنگ مرمر لگوایا تو شاہد کا مائی . نیشنل بزنس ٹھیک ٹھاک تھا۔ سنگ مرمر بچھانے کی بظاہر وجہ یہ تھی کہ صاف ستھرے فرش . پولیوشن فری ہوتے ہیں جبکہ قالینوں سے ڈھکے فرشوں سے براٹھتی ہے جو بالکل ہائی جینک نہیں … در پردہ وجہ سٹیٹس تھی۔ جمیلہ اپنے شوہر کی حیثیت کا خوب خیال رکھتی تھی۔ سارے فرش لگ چکنے کے بعد چھوٹے چھوٹے ایرانی، پاکستانی، چینی قالین کمروں میں بچھائے گئے۔ کرسٹل کے چھوٹے بڑے ڈیکوریشن ہیں اٹھا دیئے گئے۔ پتیل اور کانسی کے پرانے برتن، لکڑی کی چترالی پہنچیں، سندھ کی رلی، بلوچستان کی شیشے جزاؤ چادریں، کافرستان کے دروازے جابجا سجائے گئے۔ گھر کو محل کی طرح نواورات کی مدد کے ساتھ نئے اور پرانے کے امتزاج سے میوزیم کی طرح پڑہول بنایا گیا جہاں پہنچ کر زائرین کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.