...
سب آوازیں میری ہیں احمد فراز
سب آوازیں میری ہیں احمد فراز
سب آوازیں میری ہیں احمد فراز
نسخے: 01
شاعر کا نام: احمد فراز
کتاب کا نام :سب آوازیں میری ہیں
زبان:اردو
کاک پر نٹرس، دہلی:مطبع
2002:اشاعت
قیمت:۸۰ روپے
صفحات: 124
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

فیض احمد فیض کے نام
گریزد از صف ما، ہر که مرد غونا نیست کے
کہ کشته نه شد، از قبیله ما نیست
حرف ساده
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب فیض صاحب علامہ اقبال کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کر رہے تھے۔ فیض صاحب سے بے پناہ عقیدت کے باوجود کسی حد تک میں بے تکلف بھی تھا ایک روز میں نے ان سے عرض کیا کہ ” آپ ان تراجم میں اپنا وقت کیوں صرف کر رہے ہیں۔ یہ کام تو دوسرے لوگ بھی انجام دے سکتے ہیں ، آپ کے بے شمار مداح اور عقید تمند آپ کی تازہ تخلیقات کے لیے ترستے رہتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ اگر کوئی کہیں سے آپ کا نیا شعر یا مصرع سن لے تو بطور سوغات دوسرے شہروں اور دوستوں تک پہچانے کے لیے بے قرار رہتا ہے ” فیض صاحب نے ہمیشہ کی طرح مشفقانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “کیا تم پر کبھی شعر گوئی میں نہیں گزرا بانچھ پن کا ایسا وقت جو بعض اوقات مہینوں پر پھیل جاتا ہے ۔ ” میں نے عرض کیا ” کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ طویل عرصہ تک مصرع بھی نہیں کہا۔ ” تو پھر زمانے میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے جنگ ہو نہ ہوسپاہی کو اپنے ہتھیار صیقل رکھنے چاہئیں ۔
سب آوازیں میری ہیں” کے تراجم محض تخلیقی ہتھیاروں کو معیقل رکھنے کی غرض سے ہی نہیں کئے گئے بلکہ کچھ اور محرکات بھی تھے ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں خود انہی حالات سے گزر رہا ہوں جن سے بیشتر افریقی جلا وطن شاعر دو چار ہیں اور اپنی سر زمین سے دور اپنے لوگوں کی انقلابی جدو جہد میں قلمی حوالے سے شریک ہیں۔ دوسرا سبب یہ کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے تاریخی اور سیاسی کوائف مختلف ہوتے ہوئے بھی کئی طرح کی مماثلت رکھتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیت نے جس ظلم اور ڈھٹائی سے مقامی سیاہ فام اکثریت کو انسانی تو قیر اور حقوق سے محروم کر رکھا ہے اسی طرح پاکستان میں فوجی آمریت نے بھی ظالمانہ اور غاصبانہ رویہ سے اپنے ہی لوگوں کو محکوم بنا رکھا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں بندوق کی لبلبی پر گوری انگلیوں کی جنبش حریت پرستوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور پاکستان میں جمہوریت پسند دانشوروں سیاسی کارکنوں صحافیوں اور طلبہ کا لہو زمین کا رزق بن رہا ہے۔ غالباً میں بنیادی وجہ ہے کہ افریقی شاعری موضوعات کی حیرت انگیز مماثلت کے سبب پاکستان کے حالات کی بھی عکاس معلوم ہوتی ہے۔
آن لائن پڑھیے

ایک مقصد یہ بھی پیش نظر تھا کہ جنوبی افریقہ کی بڑی اور سچی شاعری کو اردو طبقہ سے بالعموم اور پاکستان کے ادیبوں شاعروں سے بالخصوص روشناس کرایا جائے ۔ ساتھ ہی یہ احساس دلانا بھی مقصود ہے کہ جب خلق خدا ظلم اور استحصال کے خلاف نبرد آزما ہوا اور لوگ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جانیں تک قربان کر رہے ہوں تو لکھنے والوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس مناظر میں ان کا کیا کردار ہونا چاہیے۔
میں اپنے مختصر پیش لفظ کو افریقی ادیب کے اس جملہ پر ختم کرتا ہوں ” صرف قیدی پرندہ ہی جانتا ہے کہ وہ کیوں نغمہ سرا ہے ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.