...
رشحات ڈاکٹر بانو قدسیہ
رشحات ڈاکٹر بانو قدسیہ
تلاش و ترتیب: ڈاکٹر سلیم احمد / ڈاکٹر قدسیہ بانو
شاعر کا نام:ڈاکٹر بانو قدسیہ
کتاب کا نام :رشحات
تعداد:۵۰۰
سنه اشاعت:۲۰۱۵
قیمت:۲۰۰ روپے
مطبع:روشان پرنٹرس، دہلی
تعداد:ایک ہزار
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

مقدمه مرتب
یگانہ روزگار محقق اور نقاد پروفیسر محمود الہی نے اردو زبان و ادب اور تقیق و تنقید کی آبیاری کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی ۔ آپ کی نگرانی میں ۳۶ ر پی ایچ ڈی کے مقالے اور ایک ڈی لٹ کے مقالے پر ڈگری تفویض کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب کا تقرر جب گورکھپور یونیورسٹی میں ہوا تو وہاں شعبہ اردو کی زبوں حالی کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی طالب علم اردو مضمون پڑھنا پسند نہیں کرتا تھا مگر استاد محترم کی محنت پیہم لگن ، اور ترغیب سے اردو مضمون کی فضا سازگار ہوئی اور وہ کارنامہ کر دکھایا جو مشہور دیگر یو نیورسٹیاں بھی نہ کر سکیں ۔
پروفیسر الہی قصبہ ٹانڈہ ضلع امبیڈ کر نگر کے ایک ایسے خانودہ میں پیدا ہوئے جہاں مذہبی تعلیم کا چراغ روشن تھا ۔ ابتدائی تعلیم اور عربی فارسی کی اعلیٰ تعلیم و ہیں سے حاصل کی جبکہ آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ بعد ازاں ۱۹۵۸ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پروفیسر محمد حسن کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع ”اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ تھا۔
آپ نے شاعری سے جب اردو ادب کا سفر شروع کیا تو وہ وقت ہندوستان کی غلامی کا دور تھا۔ جنگ آزادی کی جد و جہد پورے شباب پر تھی۔ ہر طبقہ اپنے اپنے طور پر اس جنگ میں حصہ لے رہا تھا مقرر جو شیلے تقریروں سے ، جیالے شمشیروں سے ، اخبارات بیباک تحریروں سے اور شعراء انقلابی شاعری سے عوام کے ولولہ کو برانگیختہ کر رہے تھے ۔ ملک کے اس ماحول سے آپ کا متاثر ہونا فطری تھا۔ لہذا انہوں نے بھی اپنے خیالات و افکار کو شعر کے قالب میں ڈھالنا شروع کیا۔ چونکہ مجروح سلطان پوری اور ڈاکٹر الہی صاحب ٹانڈہ میں ایک ساتھ مدرسہ کنز العلوم میں زیر تعلیم تھے۔ لہذا مجروح کی ضد میں ڈاکٹر الہی نے اپنائی رکھا۔ اور انقلابی نظمیں لکھنے لگے جو ملک کے مختلف جرائد اور اخبارات میں شائع پنا تخلص زخمی ہونے لگے ، اس میں بجنور سے شائع ہونے والا اخبار مدینہ کا نام قابل ذکر ہے۔ انتخاب مدینہ بجنور کے پیش لفظ میں موصوف لکھتے ہیں کہ
آن لائن پڑھیے

” جب میں کوئی ۱۴-۱۵ سال کا تھا تو میں نے ایک انقلابی نظم لکھی تھی جس سے اشاعت کے لئے مدینہ بھیج دیا تھا اور جب وہ شائع ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ میرا قد بہت اونچا ہو گیا وہ اخبار میں کس کس کے پاس نہیں لے گیا اور ایک صاحب نے مجھ سے اس شعر کا مطلب پوچھا جو مدینہ کی پیشانی پر ہر شمارے میں چھپتا تھا اور جب میں مطلب واضح نہیں کر سکا تو عرق انفعال میں ڈوب گیا۔ شعر یہ تھا
معجزہ شق القمر کا ہے مدینہ سے عیاں
مہ نے شق ہو کر لیا ہے دین کو آغوش میں
لیکن یہ بجز مدینہ سے عشق کم نہیں کر سکا میں نظمیں لکھتا رہا اور مدینہ میں شائع ہوتی رہی۔
انتخاب مدینه بجنور – ڈاکٹر عقیل احمد صدیقی ص (۵) آپ نے شاعری کے نکات کو سمجھنے کے لئے مجاہد آزادی ہندی گورکھپوری کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا جس کا اعتراف انہوں نے ہندی گورکھپوری کے مجموعہ کلام شعلہ گل کے پیش لفظ میں اس طرح کیا ہے :

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.