...
راجہ گِدھ بانو قدسیہ
راجہ گِدھ بانو قدسیہ
ناشر :نیاز احمد
شاعر کا نام:بانو قدسیہ
کتاب کا نام :راجہ گِدھ
زبان :Urdu
سن اشاعت :1988
مقام اشاعت :لاہور, پاکستان
ذیلی زمرہ جات :ناول, معاشرتی
موضوعات :ناول, خواتین کی تحریریں
صفحات :561
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

یہ تیسرے پیریڈ کا واقعہ ہے.
ایم اے کی ساری کلاس حاضر تھی ۔ لڑکیاں ہم سے اگلی قطار میں بیٹھی تھیں۔ ان چولستانی ہرنیوں میں وہ سب سے آخری تھی اکتوبر کا دن تھا۔ جس طرح بھٹی سے نکل کر مکئی کے دانے سفید پھولے ہوئے بڑے اور ٹھنڈے نظر آتے ہیں ، ایسے ہی اکتوبر کا یہ دن تھا۔ بڑا پھولا ہوا اور سفید اس سے پہلے کے تمام دن بھٹی دیدہ گرم تھے ۔ لیکن یہ دن سفید سفید دھوپ میں کچھ پھولا پھولا بڑا بڑا نظر آتا تھا۔ کچھ دنوں میں یہ صلاحیت وہ گھڑیوں کے تابع نہیں رہتے اپنی گنجائش اور سمائی کے مطابق گزرتے ہیںپروفیسر سہیل نے نئی کا رجیسی اس لڑکی کی طرف نظریں اٹھا کر سوال کیا ۔ اپنا تعارف کراۓ
داخلے کے دن سے لے کر اب تک ہم اس کے نام کے متعلق کئی قیافے لگا چکے تھے . چولستانی ہرنی اٹھی اس نے کر سی پر ایسے بانہ ورکھا جیسے موٹر سائیکل کے سہارے کھڑی ہو۔ سر میرا نام سیمی شاہ ہے ، میں نے کنیرڈ کالج سے بی اے کیا ہے اور میرے سبجکٹ سائیکلوجی اور ہسٹری تھے ۔ “
پہلی مرتبہ تمام طلبہ اپنے آپ کو باقی کلاس سے باضابطہ طور پر متعارف کرا رہے تھے ، اس سے پہلے فرزانہ ، اینجل ، طیبہ اور کو شہ اپنا تعارف کرا چکی تھیں ۔ لیکن یہ تمام لڑ کیاں چہرے مہرے اور لباس سے ایسی لگتی تھیں، جنہوں نے اخباری کاغذوں پر چھپے ہوئے نوٹس رٹ رٹ کہ بی اے کیا ہو ۔ کو شہ کے علاوہ ان لڑکیوں کی جنرل نالج اور علمی استعداد کورس کی کتابوں تک محدود تھی ۔

کو شہ حبیب اور سیمی شاہ ہماری کلاس کی آنکھیں تھیں ۔ جگمگاتی روشن دعوت سے بھری ہوئی۔ لیکن کوثر حبیب متاثر کرنے سے پہلے بیک گیئر لگاتی تھی۔ پسپا کرنے سے پہلے خود ہار جانے کی عادی تھی ، اس کے جسم اور ذہن کی بناوٹ ہی ایسی تھی ، جیسے بہت خوبصورت بلب روشن ہو ، لیکن بار بار بجلی کا فیوز اٹھ جانے کی وجہ سے روشنی میں تو انہ نہ رہے ۔
اور سیمی شاہ ؟
وہ گلبرگی معاشرے کی پیدا وار تھی۔ اس وقت اس نے موری بند جینز کے اوپر وائل کا سفید کرتا پہن رکھا تھا ۔ گلے میں حمائل مالا نما لاکٹ ناف کو چھو رہا تھا ۔ کندھے پر لکھنے والے کینوس کے تھیلے میں غالباً نقدی ، لپ سٹک ، ٹیشو پیپر تھے ۔ ایک ایسی ڈائری تھی ، جس میں کئی فون نمبر اور برتھ ڈے کے دن درج تھے۔ ایک دو ایسے قیمتی پن بھی شاید موجود ہوں گے جن میں سیاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بال پوائنٹ مانگ کہ لکھا کر تی تھی۔ اس کے سیاہ بالوں پر سرخ رنگ غالب تھا۔ اکتوبر کے سفید دن کی روشنی میں اس کے بال آگ پکڑنے ہی والے تھے۔ وہ بالکل میرے سامنے تھی اور اگر میں چاہتا تو اس کے کندھوں پر سلیقے سے جمے ہوئے بالوں کو چھو سکتا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس کے کرتے کے نیچے سے باڈس کا الا سٹک ایک اور اوپر جانے والی طنابوں کو دیکھ کہ میں خوفزدہ ہو گیا ۔ بھری پستول سے کبھی میں اس طرح خالف نہیں ہوا۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.