...
قند مکرر فیاض احمد فیضی
قند مکرر فیاض احمد فیضی
نسخے: 01
شاعر کا نام:فیاض احمد فیضی
کتاب کا نام :قند مکرر
زبان:اردو
سرورق:مسعود التمش
ناشر:انیس امروہوی
قیمت:۵۰۰
مطبع:کلاسک آرٹ پرنٹرس، چاندنی محل
کمپوزنگ:رچنا کار پروڈکشنزلکشمی نگر، دہلی -۱۱۰۰۹۲
156:صفحات
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

……..ذرا نم ہو تو
آخر وہ گھڑی آہی گئی جس کا پچھلے سولہ برسوں سے آپ سب کو ڈر لگا ہوا تھا۔ ارد و طنزیہ و مزاحیہ نثری ادب کے مرد شہ سواروں میں سوائے پطرس بخاری کے آج تک کسی کو یہ شرف حاصل نہیں ہو سکا کہ اس نے پہلی کتاب کی اشاعت کے بعد قلم توڑ کر رکھ دیا ہو۔ جس طرح فلمی عدالتوں میں منصف پھانسی کی سزا سنانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ ور نہ عام طور پر جب تک کسی ادیب کی دوسری کتاب شائع نہ ہو جائے ، قاری اور نقاد اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ شاعروں کی بات اور ہے، ان کا مرتبہ ان کے مجموعہ کلام سے نہیں، مشاعروں میں ان کی کارکردگی کی بنا پر طے کیا جاتا ہے۔ جہاں تک مزاح نگاروں کا تعلق ہے، وہ عام طور پر زود نویس ہوتے ہیں۔ قاری جب تک ایک کتاب ختم کرتا ہے، دوسری منصہ شہود پر جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ کچھ مصنف تو احتیاطاً اپنی پہلی کتاب کے آخری صفحے پر اپنے تمام ارمانوں اور خوابوں کو مصنف کی دیگر زیر ترتیب تصانیف“ کے عنوان کے تحت شائع کر دیتے ہیں ۔ لیکن جس طرح زود نویسی ، غیر معیاری ادب کی ضمانت نہیں ہوتی ہے، اسی طرح سے کچھوے کی رفتار سے لکھنے والے ادیب ہمیشه قابل برداشت تخلیق سے نوازتے ہوں ، یہ بھی ضروری نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو اس کتاب کو پڑھ لیجیے۔
میر تقی میر نے جس طرح دلی کو کئی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے دیکھا تھا، میں نے کم و بیش پچھلے تےقند مکرر فیاض احمد تین برسوں میں اسی طرح سے ہندوستان میں اردو طنز و مزاح کو بار بار بنتے بگڑتے دیکھا ہے بلکہ اس میں بہ نفس نفیس شرکت بھی کی ہے۔ وہ تو بھلا ہو جناب یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین کا جنہوں نے مزاحیہ ادب کو قصہ پارینہ ہونے سے اب تک بچا رکھا ہے۔ اُدھر حیدر آباد میں محبی مصطفیٰ کمال شگوفہ کے ذریعے اس شمع کو جلائے رکھنے میں اب تک تقریباً کامیاب ہیں۔ دراصل طنزیہ و مزاحیہ ادب ظاہری طور پر جتنا نازک اور رقیق القلب معلوم ہوتا ہے، باطنی طور پر اتنا ہی سخت جان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد کئی نشیب و فراز دیکھنے کے باوجود یہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے اور آنکھوں میں آنسو چھپائے ہمیں زمانے کے سرد و گرم سے بچائے ہوئے ہے۔
آن لائن پڑھیے

سولہ برس پہلے جب میری پہلی کتاب قند و قند منظر عام پر آئی تھی تو اُن دنوں میں سال بھر میں ایک مضمون کے اوسط سے لکھ رہا تھا اور آج جبکہ دوسری کتاب شائع ہو رہی ہے (جس کا نام سوائے قند مکرر کے کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا تھا )تب بھی کم و بیش یہی اوسط قائم ہے۔ کم لکھنے کے لئے جتنی مشقت اور ریاضت درکار ہوتی ہے، اس سے وہی لوگ واقف ہیں جو بہت زیادہ لکھتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دوسروں کے لئے لکھتے ہیں۔ پچھلے سولہ برسوں میں پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ پہلے سماج کی ناہمواریوں پر لکھا بھی جاسکتا تھا اور دوسروں کو ہنسایا یا رلایا بھی جاسکتا تھا۔ آج کھلی معیشت اور عالم گیریت کے دور میں وہی ناہمواریاں ہماری ضرورت اور عادت بن گئی ہیں ۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ دس پندرہ برس پہلے کا مزاحیہ ادب بھی کلاسک کا مرتبہ حاصل کر چکا ہے۔ اس لئے کہ نئی نسل کے نزدیک کلاسک وہ ہے جو ان کے کام کا نہیں رہا۔ پرانی نسل بھی ان سے کچھ کم نہیں ہے۔ وہ بیسویں صدی میں جن چیزوں کو استہزائیہ نظروں سے دیکھتی تھی (جیسے موبائیل ، برگر، جینس ، امپورٹڈ کار)، آج ان ہی چیزوں کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہے۔ اس لئے اگر اس کتاب کے کچھ مضامین آپ کو پُرانے دور کے معلوم ہوں تو مصنف کو یہ سوچ کر معاف کر دیں کہ مضامین تو اپنے وقت پر لکھ بھی دئے گئے تھے اور رسالوں میں شائع بھی ہو گئے تھے۔ مگر آپ کو ان تک پہنچنے میں قدرے تاخیر ہو گئی ہے۔ یوں بھی آج کی تیز رفتار دنیا میں روزانہ بدلنے والی اشیاء اور افراد پر فوراً مضمون لکھ کر قاری تک نہ پہنچا دیا جائے تو اشیاء کے نئے ماڈلز آجاتے ہیں اور لوگوں کی ضرورتیں بدل جاتی ہیں، یہاں تک کہ افراد کے کردار تک رنگ بدلنے لگتے ہیں اور خاکہ نگار ہاتھ ملنے لگتا ہے۔
کمپیوٹر ، ویب سائٹ اور انٹرنیٹ کے اس دور میں پلک جھپکتے ہی دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ ہماری جھولی بھر دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کتاب کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، خصوصاً تخلیقی شہہ پاروں کی اہمیت گھٹنے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور اسی لئے دنیا بھر میں کتابوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک طنزیہ و مزاحیہ ادب کا تعلق ہے، اسے قاری کی تلاش میں کبھی بھٹکنا نہیں پڑتا ہے اور آج بھی جب کہ ہمارے ملک میں طنز و مزاح لکھنے والے ادیبوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے، اس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ سپلائی اور ڈیمانڈ کے اس عدم توازن کے سبب ممکن ہے، ہندوستانی روپے کی قیمت بڑھ رہی ہولیکن ہمارے قارئین کی خوشحالی اور خوش مزاجی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، یہ کہنا ذرا مشکل ہے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.