...
قند و زقند فیاض احمد فیضی
قند و زقند فیاض احمد فیضی
طنز و مزاح: قند و زقند
شاعر کا نام:فیاض احمد فیضی
کتاب کا نام :قند و زقند
زبان:اردو
ناشر:انيس أمر وهوى
اشاعت:۱۹۹۱
قیمت:پچاس روپے
سرورق:انيس أمر وهوى
چھاپہ خانہ:ندرت پرنٹرز لاہور
100:صفحات جلد دوم
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

اُڑنے سے پیشتر
سولہ برس پہلے جب میں نے طنز و مزاح نگاری کی ابتدا کی تھی، اُس زمانے میں مزاح واقعی (اسٹیفن لی کاک) کے الفاظ میں زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام تھا جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے لیکن اس دوران میں زمانے نے اتنی ترقی کر لی ہے اور ناہمواریاں ہماری زندگی اور ہمارے معاشرے کا کچھ اس طرح لازمی جزو بن گئی ہیں کہ ان پر قلم اٹھانا گو یا خود کو دوسروں کا نشانہ تضحیک بناتا ہے۔ جہاں تک ہمدردانہ شعور کا تعلق ہے اب بیشتر ادیب و فن کار اپنی ذات سے ہمدردی رکھتے ہی کو باشعور ہونے کی دلیل مانتے ہیں۔ اب رہا فنکارانہ اظہار تو اس کے بارے میں اظہار خیال کرنے کا حق صرف نقادوں کو ہے جن کی اکثریت کی رائے طنز و مزاح نگاروں اور ان کے فن پاروں کے بدلتے ہوئے معیار کے متعلق تقریبا ایک جیسی ہے ۔
لیکن اس کے باوجود طنز و مزاح نگار ستائش کی تمنا اور صلہ کی پروا کئے بغیر سماج اور خود کی اصلاح میں جھٹے ہوئے ہیں ۔ اس درمیان کئی نئے لکھنے والوں نے اس میدان میں قدم رکھا اور کامیابی نے اُن کے قدم بھی چومے چنانچہ میں نے بھی اب ہمت اور مضامین جمع کر کے اسے کتابی شکل دینے کی سعی کی ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمت دوسروں کی دلائی ہوئی ہے، مضا مین البتہ میرے ہیں۔ اس لئے جن لوگوں کو یہ کتاب پسند آجائے انھیں شکر گزار ہونا چاہئے محترم یوسف ناظم، مجتبی حسین، مسیح انجم اور ڈاکٹر مصطفی الکمال صاحبان کا جن کی ہمت افزائی اور احرار کے نتیجہ میں یہ کتاب منظر عام پر آسکی ۔ جن قارئین کو یہ کتاب پسند نہ آئے انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کاممنون ہونا چاہئے جس نے میرے مسودہ داخل دفتر کرنے کے پورے دو برس بعد کتاب کی مالی امانت منظور کی ورنہ اگر اکیڈمی نے اس میں عجلت برتی ہوئی تو یہ کتاب قارئین کی طبع نازک بارگران بننے کے لئے پہلے ہی جلوہ گر ہو جاتی ۔
آن لائن پڑھیے

یوں ہمارے با ذوق قارئین نے کتاب دیکھ کر ہی اس بات کا اندازہ لگا لیا ہو گا کہ اس میں کوئی اور خوبی ہو یا نہ ہو یہ خوبی ضرور ہے کہ اس میں نہ مصنف کی تصویر شامل ہے اور نہ اس کا مبالغہ آمیز تعارف ۔نہ تو اس میں مصنف کے فن کے متعلق مشاہیر ادب کی آراء کتاب کے فلیپ میں نظر آئیں گی اور نہ ہی اس میں کسی بزرگ مزاح نگار کا مقدمہ شامل ہے جس میں کتاب کے معیاری اور دلچسپ ہونے کی ضمانت دی جاتی ہے اور جس کی وجہ سے تبصرہ نگاروں کو یہ سہولت ہو جاتی ہے کہ انھیں مقدمہ پڑھنے کے بعد کتاب پڑھنے کی ضرورت اور خواہش باقی نہیں رہ جاتی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے میں نے کوشش تو کی تھی کہ محترم مجتبی حسین اس کتاب مقدمہ لکھ دیں تا کہ میرے مضامین کی وجہ نہ سہی، ان کے مقدمہ کے سبب کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی مگر انھوں نے یہ کہہ کر خوبصورتی سے انکار کر دیا کہ ” آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں ان کے یک سطری مقدمہ( کے فیصلے) کے لئے ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.