...
پروا بانو قدسیہ
پروا بانو قدسیہ
اشاعت :001
شاعر کا نام:بانو قدسیہ
کتاب کا نام :پروا
سن اشاعت :1999
مقام اشاعت :لاہور, پاکستان
ناشر :سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
موضوعات :ناول, خواتین کی تحریریں
زبان :Urdu
ذیلی زمرہ جات :ناول, رومانی
صفحات :130
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

اشفاق احمد کے نام
اندر گھستے ہی سفید ساڑھی والی کا چہرہ فق ہو گیا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی اور آہستہ سے بولی معاف کیجئے، ہم غلط جگہ آگئے شاید۔ یہ” اختر نے آنکھیں ملتے ہوئے اور بھی آہستگی سے کہا یہ یہ کمرہ نمبر نو ہے شائد نو نمبر کمرہ ؟ صوفیہ نے اپنے آپ سے کہتے ہوئے پوچھا۔ معاف کیجئے انہیں انیسں نمبر میں جانا تھا ۔ مجھے تو ” اختر نے اپنے ریشمی نائٹ گاؤن کی ڈوریاں باندھتے ہوئے کہا۔ آپ بھی میری طرح اس ہوٹل میں نووارد ہی لگتی ہیں ؟ نو دارد ؟ لمبی لمبی سیاہ آنکھوں والی نے پوچھا۔
“جی ہاں۔ شاید آپ بھی آج ہی آی ہیں “
لڑکی نے پیچھے ہٹتے ہوئے دروازے کی نوب پر ہاتھ رکھ لیا۔ اور مسکرا کر بولی: جی ہاں، مجھے یہاں ٹھہرے تین دن ہو چکے ہیں ۔ لیکن کیا کروں ، سب دروانے ایک سے ہیں، ساری منزلیں ایک سی ہیں ۔ ہر بارا پنا کمرہ بھول جاتا ہے؟ ” کاش آپ یہ غلطی بار بار کریں؟ اختر نے مہذب انداز میں فلرٹ کرتے ہوئے کہا۔ سفید ساڑھی والی کی آنکھیں ایک دم سکڑ گئیں ۔ اس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد پڑ گیا اور دروازے کی درز کھلنے لگی۔
لڑکی خاموش رہی۔ اس کے کندھے پر لمبی سیاہ چھوٹی موٹے سے سانپ کی طرح لٹک رہی تھی۔ آہستہ سے گردن کا جھٹکا ملا تو یہ لمبا سانپ پھیل کر سامنے سینے پر گر گیا۔ بغیر موہاف کے بال پلو کے برابر ہو گئے۔ لڑکی نے دروازہ کھولا اور یوں باہر چلی گئی۔ جیسے کبھی آئی ہی نہ تھی ۔
آن لائن پڑھیے

.اختر نے کندھا جھٹک کر اپنے آپ سے کہا جھوٹی موڈسٹی ایسی ہزاروں لڑکیاں اپنے شہر لہور میں بستی ہیں
دروازے پر پھر ہلکی سی دستک ہوئی اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر بھی سیان آنکھوں والی کا سر اور تھوڑا سا کندھا اختر کو نظر آیا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔
دروازے میں کھڑے ہو کر اس نے کہا ” شاید آپ کے ہاں لڑکیوں سے بات کرنے کا یہی رواج ہے
اختر خاموش رہا “
اگر ایسے ہے تو معاف کیجئے گار میں ناراض ہو گئی۔ دراصل میں یہاں کے کسٹمز کی ابھی عادی نہیں ہوئی ۔
ایک بار پھر دروازہ بند ہو گیا۔
اختر نے لمبی انگڑائی لی۔ اور مسکرا کر بستر پر نیم دراز ہو گیا۔ شام آرہی تھی ۔ اور کمرے میں نیم تاریکی تھی۔ اس نے سفر کی کسلمندی دور کرنے کے لئے پہلے تو نہانے کا ارادہ کیا اور پھر تکئے پر سر رکھ کر سگرٹ جلا لیا۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.