...
پروفیسر فواد سزکین ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی
پروفیسر فواد سزکین ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی
نسخے: 01
شاعر کا نام:ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی
کتاب کا نام :پروفیسر فواد سزکین
زبان:اردو
باہتمام:طلبائے علیا ثانیہ شریعہ حدیث
تقدیم: ڈاکٹر ابو سحبان روح القدس ندوی
قیمت:۵۰۰
بار اول: رجب المرجب ۱۴۴۰ ھ مطابق مارچ ۲۰۱۹ء
66:صفحات
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

بسم الله الرحمن الرحیم
تقدیم
وفیات نویسی کا فن ہر زبان میں اہل علم کی دلچسپی کا باعث رہا ہے اور اس فن میں عربی اور اردو میں خاص طور پر کافی مواد ہے، میگزین ورسائل اور روزناموں میں وفیات کو ایک مستقل کالم کی حیثیت حاصل ہے، پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد وفیات کے ان مجموعوں کو کسی نے یاد رفتگاں، متاع رفتگاں، بزم رفتگاں ، تو کسی نے دید و شنید، گنج ہائے گرانمایہ ، ہم نفسان رفتہ ، بزم خوش نفساں اور کسی نے پرانے چراغ، یادوں کے چراغ اور وفیات ماجدی کے نام سے موسوم کیا ہے۔
آئیے اب وفیات نگاری کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، یوں تو علوم حدیث میں وفیات المحدثین اور رواۃ الحدیث کی بڑی اہمیت ہے، خاص طور پر جرح و تعدیل کے باب میں اس علم سے کافی کام لیا جاتا ہے۔
:وفیات نویسی کے ہر اول دستے میں
ابن زبر الربعی ( ابو سلیمان محمد بن عبداللہ متوفی ۳۷۹ھ) کا نام سر فہرست ہے ، محدثین دمشق میں ان کا شمار ہوتا ہے اور وہ بیک وقت مؤرخ بھی تھے، حاجی خلیفہ کی تحقیق کے بموجب موصوف کی کتاب کا نام ” وفیات النقلہ ، سخاوی اور زرکلی کے خیال میں ” تاریخ موالید العلماء و وفیا تہم“ ہے ، ابن زبر الربعی کی اس کتاب میں ہجرت سے ۳۳۸ھ تک کے رواۃ کے موالید و وفیات درج ہیں، اور یہ کتاب زیور طبع سے آراستہ ہے۔
(۲) ابوسلیمان الربعی کی کتاب کا ذیل (تکملہ ) کتانی ( ابومحمد عبد العزیز بن احمد متوفی ۴۶۶ھ) نام سے لکھا اور اس میں ۳۳۸ھ تا ۴۶۲ھ تک کے وفیات کا تذکرہ کیا ہے، موصوف نے الوفیات کے نام سے محدثین دمشق میں شمار ہوتے ہیں ، حاجی خلیفہ نے ان کا سنہ وفات ۳۳۶ھ بتایا ہے جو غلط ہے۔
کستانی کی کتاب کا ذیل ابن الاکفانی ( هبة الله بن احمد متوفی ۵۲۴ھ) نے جامع الوفیات کے نام سے لکھا اور اس میں ۴۶۴ تا ۴۸۵ ھ تک کے تراجم وفیات درج ہیں، وہ تاریخ سے بھی اعتناء رکھتے تھے اور وفیات ابن الحبال کے راوی ہیں۔
(۴) ابن المفضل ( ابو الحسن شرف الدین علی بن المفضل اللغمی متوفی ۶۶۱ ھ ) نے ابن الأكفانی کی کتاب پر ذیل لکھا اور ۵۸۱ تک کے وفیات کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے، ابن المفضل اصلا مدینہ القدس کے رہنے والے تھے ، اسکندر یہ ان کا مولد و مسکن ہے اور قاہرہ مرقد۔ فقہائے مالکیہ اور حفاظ حدیث میں تھے ، حدیث اور دیگر علوم میں ان کی تصانیف ہیں۔
حافظ منذری ( ذکی الدین ابومحمد عبد العظیم بن عبد القوی متوفی ۲۵۶ھ) نے التکملہ لوفیات النقلہ میں ابن المفضل کی کتاب پر تین جلدوں میں ذیل لکھا ، حاجی خلیفہ نے بخط مؤلف دیکھنے کی صراحت کی ہے، زرکلی کے ہاں بھی مندری کی کتاب کا ذکر ہے اور اب بشار عواد معروف کی تحقیق سے چار جلدوں میں چھپ گئی ہے۔
آن لائن پڑھیے

منذری کے ایک مایہ ناز شا گرد ابن الحلبی ( احمد بن محمد بن عبد الرحمن المصری متوفی ۷۹۵ ھ ) نے اپنے استاذ گرامی کی کتاب پر ذیل تیار کر کے ۲۹۵ خر تک کے وفیات کا احاطہ کیا ہے۔
حافظ دمیاطی ( شہاب الدین ابو الحسین احمد بن ایبک الحسامی متوفی ۷۴۹ھ) نے ذیل علی ذیل الوفیات میں اپنے پیش رو مؤلفین کے ذیول پر ذیل لکھا اور ۷۴۹ میں پیش آنے والے طاعون
بلا خیز تک کے وفیات کا احاطہ کیا ہے۔
دمیاطی کی شہرت بحیثیت مؤرخ و محدث ہے، دمشق کوچ کر گئے تھے لیکن مصر کی خاک کے پیوند بنے، کحالہ نے ان کی تصانیف کا اشاریہ دیا ہے۔
) حافظ عراقی ( زین الدین عبدالرحیم بن الحسین متوفی ۸۰۶ھ) نے امام ذہبی متوفی ۷۴۸ھ کی میزان الاعتدال اور ” العبر“ کا ذیل لکھا ، موصوف کی منجم الشیوخ “ بھی ہے جس میں آٹھویں صدی ہجری کے تراجم شیوخ مذکور ہیں۔
حافظ برزالی ( علم الدین ابو محمد القاسم بن محمد الاشبیلی ثم الدمشقی متوفی ۷۳۸ھ) نے تاریخ البرزالی لکھی ، اس میں ۷۳۸ ھ تک کے تین ہزار مشاہیر کے تراجم درج ہیں ، ” وفیات“ کے نام سے بھی برزالی کی ایک کتاب ہے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.