...

پیا نام کا دیا بانو قدسیہ | FREE DOWNLOAD PDF

پیا نام کا دیا بانو قدسیہ | FREE DOWNLOAD PDF
پیا نام کا دیا بانو قدسیہ | FREE DOWNLOAD PDF
پیا نام کا دیا بانو قدسیہ | FREE DOWNLOAD PDF
اشاعت :001
شاعر کا نام:بانو قدسیہ
کتاب کا نام :پیا نام کا دیا
ذیلی زمرہ جات :ڈراما
موضوعات :خواتین کی تحریریں
زبان :Urdu
صفحات :196
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

یہ ڈرامہ ایک مشہور فلمی بیک گراؤنڈ گلوکارہ کے متعلق ہے، جسے کسی طرح شہرت اور دولت حاصل ہو گئی۔ لیکن ایسے لگتا ہے اسے زندگی میں ان چیزوں کا انتظار نہیں تھا۔ وہ سمندر کنارے سپیاں چنے گئی تھی اور ساحل پر ہر جگہ اسے موتی بکھرے ہوئے مل گئے۔ ستارہ ٹوٹے ہوئے سیارے کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ جو گر تا رہتا ہے ، ٹوٹتا رہتا ہے ، لیکن جس میں کوئی نقل موجود نہیں، کوئی سمت نہیں۔ وہ پبلک گلوری کا فگر ہے، جس کی ذاتی زندگی سوائے ٹنشن کے اور کچھ نہیں۔
ساری دنیا میں صرف اس کا باپ ایک ایسا شخص ہے جو اس توڑ پھوڑ سے واقف ہے لیکن وہ اندھا ہے اور ارد گرد ہونے والی باتوں کو صرف اپنی چھٹی حس سے جانتا ہے۔ اس لیے وہ واقعات کو صحیح چوکٹھے میں فٹ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
ستارہ اپنے بیڈ روم میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہے۔ پاس ہی ٹیپ ریکارڈر پر غزل جاری ہے۔ یہ غزل اسے آج ریکارڈ کرانا ہے۔ اسلم کولری کی یہ غزل اس سکرپٹ کا تھیم
سونگ بھی ہے۔
پل پل اپنا رنگ بدلنا چلنا سنگ ہوا کے کسی بیری سے سیکھے تم نے یہ انداز وفا کے آنکھیں خالی ہیں اور گھر کی ساری دیواروں پر آڑی ترچھی سطریں ہیں یا الٹے سیدھے خاکے اک چمک سی پیدا ہوتی ہے سنساں فضا میں پھر سناٹا چن لیتا ہے ٹکڑے میری صدا کے
آن لائن پڑھیے

ستارہ سن رہی ہے، جیسے دھن کو ذہن نشین کر رہی ہو۔ اس دوران کٹ اور ری ٹیک وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں۔ ستارہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہے اور نروس ہے۔ سب سے پہلے اس کے چہرے کا کلوزاپ کیمرے میں آتا ہے۔ یہ کلوزاپ آئینے سے لیا جاتا ہے۔ ستارہ احتیاط سے آنکھوں پر مسکار انگارہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ وہ ٹیپ کو ریوائنڈ کرتی ہے اور الاپ پھر سنتی ہے۔ اس کے بعد اٹھتی ہے اور ڈریسنگ ٹیبل کے دراز الٹ پلٹ کرتی ہے۔ اس کے انداز میں جلدی اور جھلاہٹ ہے۔ اب وہ سکتے کے نیچے دیکھتی ہے۔ پھر الماری کھولتی ہے۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ وہ بھاگ کر فون تک پہنچتی ہے۔ نیچے سے کار کا ہارن سنائی دیتا ہے۔ وہ فون پر ”ہیلو“ کہہ کر واپس ڈریسنگ ٹیبل پر جاتی ہے شیپ بند کرتی ہے اور پھر فون پر آجاتی ہے۔
ستاره جی ہیلو۔ میں ستارہ فیروز بول رہی ہوں۔ جی ماسٹر جی … نہیں جی دیر کیوں ہوگی … میں سٹوڈیو پہنچ جاؤں گی ساڑھے دس بجے۔ آپ فکر نہ کریں۔ آرکسٹرا ریڈی ہے ناں . آپ مجھے نروس نہ کریں دیر نہیں ہو گی انشاء اللہ ۔
فون بند کرتی ہے۔ چند ثانیے کے لیے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو مجتمع کرتی ہے۔ پھر اپنے بیڈ روم سے باہر نکلتی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.