...
نشیب و فراز اور سفرنامۂ حرم
نشیب و فراز اور سفرنامۂ حرم
نسخے: 01
شاعر کا نام:مولانا ڈاکٹر مختار احمد اصلاحی
کتاب کا نام :نشیب و فراز اور سفرنامۂ حرم
زبان:اردو
ناشر:مجلس دعوت القرآن، قصبہ جین پور، اعظم گڑھ
کمپوزنگ: محمد ابوذر ناظمی
قیمت:۱۵۰
صفحات جلد اول: ۱۵۰
سن اشاعت:جنوری ۲۰۰۶
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

مرے ساقیا وہ شراب دے جو عطا کرے مجھے ولولے
مرے جذب و شوق کے قافلے نہ رکیں نشیب و فراز میں
نشیب و فراز اور سفرنامه حرم
استاذ گرامی حکیم افہام اللہ صاحب زید مجدہ اور مولانا ابرار الحق صاحب زید مجدہ کے ساتھ حرم کی چند  ساعتیں
مقدمه
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ. زندگی کے حالات تو بزرگوں کے قلم بند کئے جاتے ہیں، جو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے والوں کے لئے روحانی ٹانک کا کام کرتے ہیں، راقم الحروف اس لائق کہاں کہ اس کا تعارف کرایا جائے یا خود وہ اپنا تعارف نامہ لکھے، لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ نالائقوں کی زندگیوں میں بھی کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جن سے کچھ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے، اگر میری زندگی کے بعض حالات سے کسی کے دل میں اللہ کی ۔ محبت پیدا ہو جائے، یا محبت الہی کی چنگاری کو بھڑ کانے کا سبب ہو جائے تو امید ہے کہ انشاء اللہ یہ تحریر مجھ نامہ سیاہ کے لئے کفارہ سیئات ہو جائے گی۔
اپنی سوانح حیات کوئی خود لکھے یا کوئی دوسرا لکھے، اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں، اصل سوانح حیات تو وہ ہے جس کو فرشتے لکھ رہے ہیں، ہر انسان کی سوانح حیات اس کی گردن میں چپکا دی گئی ہے، فرشتے ہر وقت اس کی زندگی کے حالات و اعمال کو لکھتے رہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری وہ سوانح حیات جس کو فرشتے لکھتے رہتے ہیں ، اس میں ہمارا کوئی قول اور فعل ایسا نہ ہو جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہو ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَكُلُّ إِنْسَانِ الْزَمُنْهُ طَئِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَ نُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كتباً يَلْقَهُ مَنْشُوراً اِقْرَأْ كِتَبُكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا “ (ہم نے ہر انسان کے عمل (اس کی اچھی خراب سوانح حیات) کو اس کی گردن میں چپکا دیا ہے، اس کو قیامت کے دن اس کے سامنے ایک کتاب کی شکل میں پھیلا دیں گے، پڑھو اپنی کتاب (اپنی سوانح حیات) آج تمہارا نفس خود تمہارے حساب کے لئے کافی ہے ) ۔ (سورہ بنی اسرائیل )
آن لائن پڑھیے

جو سوانح حیات قولاً وعملاً اس دنیا میں ہے وہی گردنوں میں چپکے ہوئے نامہ اعمال میں لکھی جارہی ہے، یہ مختصری سوانح حیات جو آج سے ۳۳ سال پہلے لکھی گئی تھی، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمالے اور نامہ اعمال کی اس فہرست میں شامل کر دے جو داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ آمینٓ
یہ تحریر، جو اس وقت آپ کے سامنے ہے، دوران طالب علمی ( علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ) ۱۹۷۲ء میں میں نے لکھا تھا ، ۳۳ سال تک وہ مسودہ بکس میں محفوظ رہا، اللہ کی کیا حکمت تھی ، اس کو سمجھنے سے انسان عاجز ہے، کب کس چیز کی ضرورت ہے؟ کب اس کا شائع ہونا بہتر ہے، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس لئے بندے کو چاہئے کہ جو دینی کام کر سکتا ہے کرتا رہے، اسباب پر اس کی نظر نہ ہو، اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی چیز کے لئے کوئی سبب پیدا فرمادے، آئندہ کس سے کیا کام لینا چاہتا ہے وہی جانتا ہے، راقم الحروف کی کبھی کبھی خواہش بھی ہوتی تھی کہ زندگی کے یہ چند واقعات جو منتشر اوراق میں موجود ہیں شائع ہو جائیں، لیکن کیسے شائع ہوتے؟ اللہ تعالیٰ تو اس کی اشاعت کا کام اپنے کسی اور مخلص بندہ سے لینا چاہتا تھا اور لے لیا سچ ہے۔
این سعادت بزور بازو نیست
تا نه بخشد خدائے بخشنده

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.