...

موم کی گلیاں بانو قدسیہ | FREE DOWNLOAD BOOK

موم کی گلیاں بانو قدسیہ
موم کی گلیاں بانو قدسیہ
اشاعت :001
شاعر کا نام:بانو قدسیہ
کتاب کا نام :موم کی گلیاں
سن اشاعت :2000
مقام اشاعت :لاہور, پاکستان
ناشر :سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
ذیلی زمرہ جات :خود نوشت
صفحات :97
تعداد:ایک ہزار
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

اشفاق احمد کے نام
تقسیم سے پہلے ہمارا لمبا چوڑا خاندان تھا۔ ہم سب اکٹھے رہتے اور بڑی حویلی میں خوب رونق ہوتی تھی۔ بڑے میر صاحب یعنی میرے دادا گھر کے سردار تھے حقے کی نے ان کے منہ سے جیتے ہی علیحدہ نہ ہوئی۔ تمباکو نوشی کی اسی عادت کے بدولت ان کا نچلا ہونٹ مستقل طور پر لٹک گیا تھا۔ وہ کوئی کام نہ کرتے تھے ۔ صرف اپنے بڑھے ہوئے گھرانے کے افراد کا احتساب کیا کرتے ۔ وہ کچھ کرنے جو گے نہ تھے لیکن ان کا دبدبہ اور رعب ہم سب کے دلوں پر کچھ اس طرح طاری تھا کہ ہم ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کی سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ بڑے میر صاحب جدھر کا رخ کرتے سارے افراد خانہ سینوں پر ہاتھ باندھ کر ان کے پیچھے ہو لیتے۔
چچا ابا ، تایا جان اور ہمارا خاندان ان دنوں اکٹھا رہتا تھا۔ گھر کی مصروفیت کا یہ عالم ہوتا کہ سب جوان گھبر و صبح سویرے اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے اور گھر میں لڑھکنے، پھسلنے اور رینگنے والے بچوں اور ان کو کھلانے والی عورتوں کے سوانے کوئی سند رہ جاتا۔ بڑے میر صاحب کو سست، کاہل اور دھرنا مار کر بیٹھنے والی عورتوں سے شدید نفرت تھی۔ ان کی زندگی میں ہمارے گھر کی ساری عورتیں ہر وقت اپنے اپنے کام میں مشغول رہتیں اور وہ حقہ بجاتے ان کی نگرانی کیا کرتے۔ وہ خود کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ اپنے سارے بچوں کا کنبہ بنانا ہی ان کا پہلا اور آخری فرض تھا ان کو کھلانے پلانے اور ان کی غورو پرداخت کی ذمہ داری ان پر عائد نہ ہوتی تھی۔ لیکن ان کے مرتے ہی گھر کا شیرازہ بکھرنے لگا پھر فسادات نے رہی سہی سالمیت کی کمر توڑ دی۔ چچا آیا اور تایا جان کے گھرانے ہم سے علیحدہ ہو گئے اور ابا میاں ہمیں لے کر لاہور میں بس گئے۔ جب تک ہم سب سب بڑے ابا کی سرپرستی میں رہے کسی کی اصلیت کسی کا اصلی رنگ نہ کھلا لیکن جونہی ہمارا یونٹ علیحدہ ہوا اور نئی زندگی کے تقاضے ابھرے ہماری شخصیتوں کے تہ در نہ پر دے کھلنے لگے۔
اپنے گاؤں میں خرم بھائی شہزادوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ اصل معنوں میں بڑے ابا یعنی بڑے میر صاحب کے نائب تھے۔ بڑے ابا ہر وقت حقے کی نے منہ سے لگائے رکھتے تو خرم بھائی ہر لمحہ سگرٹمیں چوستے رہتے ۔ ان کی انگلیوں پر مہندی رنگے نشان تھے۔ پنچلا ہونٹ لٹک گیا تھا اور اس کی بدولت وہ ہم سب سے علیحدہ اور سب سے خوبصورت نظر آتے۔
آن لائن پڑھیے

لاہور پہنچتے ہی ابا میاں نے بہت چاہا کہ خرم بھائی کیسی جگہ ملازم ہو جائیں لیکن خرم بھائی ملازمت نہ کر سکے ۔ یہ ان کی نیت کا فتور نہ تھا بلکہ ان کی تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی تھی کہ وہ تخیل کی دنیا میں رہنا پسند کرتے تھے۔ انہیں کتابوں سے عشق تھا۔ اندھیرے سے محبت تھی۔
وہ فطرت کی ایسی عطا کردہ نعمت تھے جس کا مصرف ہم اچھی طرح سمجھ نہ پائے تھے۔ خاص طور پر ابا میاں ان کے وجود سے بہت گھبرانے لگے تھے۔ وہ جب بھی بیٹھتے اپنی محنت اور ہم دونوں بھائیوں کی سست الوجودی کا رونا روتے میں بی ایس سی ایگریکلچر کر کے ان دنوں عیش منا رہا تھا۔ ابا میاں کو اس میں پیتی پر اعتراض تو بہت تھا۔ لیکن ان کے پیش نظر ایک اتنی بڑی سکیم تھی کہ وہ ہم دونوں بھایوں کی کاہلی اسی عظیم کے اخت لی پر زیادہ توجہ نہ دے سکتے تھے ۔ چنانچہ بر ا ماتحت وہ ہمیں مری لے گئے ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.