...
مجموعہ احمد فراز
مجموعہ احمد فراز
نسخے: 01
شاعر کا نام: احمد فراز
کتاب کا نام :مجموعہ احمد فراز
زبان:اردو
موسم اشاعت:2007
تزئین: خالد رشید
قیمت:500 روپے
صفحات:766
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

شعر, احمد فراز
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جاتے
فن کاروں کے نام
تم نے دھرتی کے ماتھے پر افشان چینی ،خود اندھیری فضاؤں میں پلتے رہے ،تم نے دنیا کے خوابوں کی جنت بنی ،خود فلاکت کے دوزخ میں جلتےرہے ،تم نے انسان کے دل کی دھڑکن سنی، اور خود عمر بھر خوں اُگلتے رہے۔
جنگ کی آگ دنیا میں جب بھی جلی، امن کی لوریاں تم سناتے رہے جب بھی تخریب کی تند آندھی چلی ،روشنی کے نشاں تم دکھاتے رہے، تم سے انساں کی تہذیب پھولی پھلی ،تم مگر ظلم کے تیر کھاتے رہے۔
تم نے شہکار خون جگر سے سجائے، اور اس کے عوض ہاتھ کٹوا دیے ،تم نے دنیا کو امرت کے چشمے دکھائے، اور خود زہر قاتل کے پیالے پیے، تم نے ہر اک کے دُکھ اپنے دل سے لگائے ،تم جیے تو زمانے کی خاطر جیے۔
آن لائن پڑھیے

تم پیمبر نہ تھے عرش کے مدعی، تم نے دنیا سے دنیا کی باتیں کہیں، تم نے ذروں کو تاروں کی تنویر دی ،تم سے گو اپنی آنکھیں بھی چھینی گئیں، تم نے دُکھتے دلوں کی مسیحائی کی اور زمانے سے تم کو صلیبیں ملیں
کاخ و دربار سے کوچہ دار تک، کل جو تھے آج بھی ہیں وہی سلسلے ،جیتے جی تو نہ پائی چمن کی مہک ،موت کے بعد پھولوں کے مرقد ملے، اے مسیحاؤ ! یہ خود کشی کب تلک، ہیں زمین سے فلک تک بڑے فاصلے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.