...
خواب گل پریشان ہے احمد فراز
خواب گل پریشان ہے
نسخے: 02
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :خواب گل پریشان ہے
زبان:اردو
ناشر:مطبع، کاک پرنٹس ، دہلی
اشاعت : 2002
قیمت:۸۰ رویے
صفحات:91
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

حمید اخوند کے نام
دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں، بر سرِ عام رکھ دیا
احمد فراز کی شاعری۔۔۔ ایک مختصر تاثر
چند ہفتے پہلے کا واقعہ ہے کہ احمد فراز، امجد اسلام امد، سجاد بابر اور میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے احرام باندھے مکہ مکرمہ پہنچے ۔ ہم طواف کعبہ مکمل کر چکے اور سعی کے لیے صفا و مردہ کا رخ کرنے والے تھے کہ ایک خاتون لپک کر آئی اور احمد فراز کو بصد شوق مخاطب کیا۔ ” آپ احمد فراز صاحب ہیں نا؟ ” فراز نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولی ۔ ” ذرا سار کیے گا۔ میرے بابا جان کو آپ سے ملنے کا بے حد اشتیاق ہے ۔ ” وہ گئی اور نہایت بوڑھے بزرگ کا بازو تھامے انہیں فراز کے سامنے لے آئی ۔ بزرگ اتنے معمر تھے کہ بہت دشواری سے چل رہے تھے مگر ان کا چہرہ عقیدت کے مارے مسرت ہو رہا تھا اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ بولے ۔ ” سبحان اللہ ۔ یہ کتنا بڑا کرم ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اس نے اپنے ہی گھر میں مجھے احمد فراز صاحب سے ملوا دیا ۔ ۔ ۔ وہ احمد فراز جو میرے محبوب شاعر ہیں اور جنہوں نے میر و غالب کی روایت کو توانائی بخشی ہے ۔ ” عقیدت کے سلسلے میں انہوں نے اور بہت کچھ کہا اور جب ہم ان سے اجازت لے کر سعی کے لیے بڑھے تو میں نے فراز سے کہا۔ ” آج آپ کی شاعری پر سب سے بڑے الزام کا ثبوت مل گیا ہے ۔ ” سب نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا۔ دیکھا نہیں آپ نے ۔ ” یہ ” ٹین ایجر” فراز سے کتنی فریفتگی کا اظہار کر رہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ٹین ایجر کی عمر اسی پچاسی سے متجاوز تھی ۔ “
فراز ٹین ایجر کا شاعر ہے۔۔۔۔” فراز صرف عنفوانِ شباب میں داخل ہونے والوں کا شاعر ہے ۔ ” ۔۔۔۔ “فراز کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلبہ کا شاعر ہے اور بس ” ۔۔۔۔ فراز پر یہ الزامات مہر طرف سے وارد ہوتے رہے ہیں مگر وہ اس الزام تراشی سے بے نیاز، نہایت خوب صورت شاعری تخلیق کیے جا رہا ہے ۔ اگر حسن و جمال اور عشق و محبت کی اعلی درجے کی شاعری گھٹیا ہوتی تو میر خواب مکمل پریشان ہے
آن لائن پڑھیے

اور غالب، بلکہ دنیا بھر کے عظیم شاعروں کے ہاں گھٹیا شاعری کے انباروں کے سوا اور کیا ہوتا۔ فراز کی شاعری میں بیشتر یقیناً حسن و عشق ہی کی کار فرمائیاں ہیں اور یہ وہ موضوع ہے جو انسانی زندگی میں سے خارج ہو جائے تو انسانوں کے باطن صحراؤں میں بدل جائیں، مگر فراز تو بھر پور زندگی کا شاعر ہے۔ وہ انسان کے بنیادی جذبوں کے علاوہ اس آشوب کا بھی شاعر ہے جو پوری انسانی زندگی کو محیط کیسے ہوئے ہے ۔ اس نے جہاں انسان کی محرومیوں، مظلومیتوں اور شکستوں کو اپنی غزل و و نظم نظم کا موضوع : وہیں ظلم و جبر مجھ بر کے عناصر اور آمریت و مطلق العنانی پر بھی نوٹ ٹوٹ کر بر سا ہے اور اس سلسلے میں غزل کا ایسا ایسا شعر کہا ہے اور ایسی ایسی نظم لکھی ہے کہ پڑھتے یا سنتے ہوئے اس کے مداحین جو سنتے ہیں اور اس کے معترضین کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔ یہ دونوں پہلو زندگی کی حقیقت کے پہلو ہیں اور حقیقت ناقابل تقسیم ہوتی ہے ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.