...
جون ایلیا کی شاعری
جون ایلیا کی شاعری
سال اشاعت: 2021
مصنف:محمد ارشاد
کتاب کا نام :جون ایلیا کی شاعری
زبان:اردو
مطبع:رے ڈینا سسٹمز
تعداد: ۵۰۰
قیمت:۱۰۴ روپے
۱۶۸ :صفحات
کمپوزنگ:شیخ پرویز
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

اپنے اساتذہ کے نام جن کی محبتوں کے بغیر کتاب کی اشاعت ممکن نہ تھی
اپنی بات
اردو زبان و ادب کا فروغ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا اولین مقصد ہے۔ اس ضمن میں اکاڈمی نے بہتیرے پروگرام مرتب کیے ہیں اور اُن پر تن دہی سے عمل پیرا بھی ہے۔ نجی اشاعتی اسکیم بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت اکاڈمی مغربی بنگال میں تحقیق و تنقید اور زبان وادب کے حوالے سے محققوں، تنقید نگاروں، شاعروں اور ادیبوں کی تخلیق کردہ معیاری کتابیں رعایتی اور واجبی قیمت پر زیور طباعت سے آراستہ کر کے عام قاری کے ہاتھوں میں پہنچانے کا بھی عزم رکھتی ہے تا کہ اردو دنیا نہ صرف مغربی بنگال کے ادبی منظر نامے سے واقف ہو سکے بلکہ یہاں کا ادب محفوظ بھی رہ سکے۔
زیر نظر کتاب جون ایلیا کی شاعری “ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اکاڈمی اس کتاب کے مصنف محمد ارشاد کی شکر گزار ہے۔
آن لائن پڑھیے

پیش لفظ
جون ایلیا اردو کے کوئی نئے شاعر نہیں ہیں لیکن ان کی شخصیت اور ان کے فن پر بہت کم کام کیا گیا ہے ( یہ بات کم از کم ہندوستان کے تناظر میں کہی جاسکتی ہے ) ۔ جون پر کام کرنے کے سلسلے میں سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ ان کے مجموعوں کی حصولیابی کا تھا۔ ان کے مجموعوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بعد کے مجموعے ” گویا ، گمان، لیکن وغیرہ تو آسانی سے دستیاب ہیں مگر ان کے ابتدائی دو مجموعے شاید اور ”یعنی مشکل سے ملتے ہیں حالاں کہ اب فاروق ارگلی صاحب نے جون کا کلیات مرتب کر دیا ہے۔ جون کو میں نے پہلی بار سات آٹھ برس قبل پڑھا تھا ۔ کیفیت سے بھری ہوئی ان کی حیرت انگیز شاعری نے مجھ جیسے نو وارد ادب کو بیحد متاثر کیا۔ ظاہر ہے اس وقت سوائے کیفیت کے کوئی چیز نہ تو میری سمجھ میں آتی تھی اور نہ مجھے کسی چیز کی تلاش تھی ۔ جون کے شعری اور ادبی طریق کار سے مجھے کوئی سروکار نہ تھا نیز کسی بھی طرح کے تجزیاتی محاکمے کا شعور بھی میرے اندر بالیدہ نہیں ہوا تھا تا ہم ان سات آٹھ برسوں میں یہ خیال میرے ذہن میں بار ہا آتا رہا ہے کہ جون کو دور جدید کے قارئین سے ضرور متعارف کرانا ہے اسی خیال کے زیر اثر یہ کتاب منصہ شہود میں آئی ۔ ادب کا قاری ہونے کے ناطے مجھ پر یہ فرض سے کسی بھی صورت کم نہیں کہ ایک سچے شاعر کو ادب کے قارئین تک پہنچایا جائے۔ میری یہ کتاب دراصل میرا ایک وعدہ ہے جو میں نے خود سے کیا تھا ، میری ایک ذمہ داری ہے جسے میں نے جون کو پڑھتے وقت لیا تھا کہ اس شاعر کو دنیائے ادب کے سامنے لانا ہے اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے سامنے ایک سوال قائم کرنا ہے کہ اردو ادب میں جون کا جائز مقام کیا ہے۔؟
تمام مجموعوں کے مطالعے کے بعد ایک دشواری یہ پیش آئی کہ جون کی شاعری کے سلسلے میں اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو استقامت بخشنے کے لئے حوالے کے طور پر سوائے ایک کتاب ” جون ایلیا ۔۔۔ خوش گزراں گزر گئے، کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہ مل سکی جسمیں جون کی شاعری پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہو۔ لہذا اس کتاب میں جون کی شاعری پر جو آرا سامنے آئی ہیں وہ خالص میری ہیں ۔ جون پر باقاعدہ کسی کتاب کی عدم دستیابی نے میرے لیے سوائے اس کے اور کوئی راستہ باقی نہ رکھا کہ میں یوٹیوب اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے مددلوں ۔ لہذا کتاب کے پہلے باب حیات جون ایلیا کے لیے یوٹیوب پر موجود ان کے دوستوں، رشتہ داروں ، مداحوں وغیرہ کے انٹرویوز اور مکالموں سے بہت مدد لی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جون کے سب سے بڑے مداح خالد احمد انصاری کا شکریہ تہہ دل سے ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ جون کے تئیں ان کی محبت نے ہم جیسوں کے لیے کئی مسدود راہوں کو وا کیا ہے۔
اس کتاب کا مسودہ مکمل طور پر تیار ہونے کے کئی دنوں بعد تک میری کم ہمتی کی وجہ سے نذر گرد و غبار ہوتا رہا۔ شاید یہ کتاب کبھی منظر عام پر نہیں آتی اگر میرے انتہائی شفیق اساتذہ اور نہایت ہی مخلص انسان ڈاکٹر امتیاز وحید اور ڈاکٹر ندیم احمد صاحبان میری رہ نمائی نہ کرتے اور میرے اندر مسلسل نئی روح نہ پھونکتے لہذا ان حضرات کا وجود میرے اور اس کتاب کے حق میں مثل ابنائے مریم ثابت ہوا ( حالاں کہ عیسی ایک ہی تھے ۔ یہ ان حضرات کا ہی احسان تھا کہ انھوں نے حوالے کی کتابوں اور ہمیشہ اپنے نیک مشوروں سے نوازا اور گاہے گاہے اس کتاب کے تعلق سے خبر گیری کرتے رہے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.