...

جون ایلیا خوش گُزراں گُزر گئے

Table of Contents

جون ایلیا خوش گُزراں گُزر گئے
جون ایلیا خوش گُزراں گُزر گئے
پہلی اشاعت: جون 2011
شاعر کا نام:جون ایلیا
کتاب کا نام :خوش گُزراں گُزر گئے
زبان:اردو
قیمت:300 روپے
کمپوزنگ: لیزر پلس
181:صفحات
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

نوشته دیوار
:جون بھائی کے حوالے سے کچھ لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں جی کرتا ہے پوچھوں موئن جو دڑو کے کھنڈرات تم بتاؤ
جب سانس لیتی روشنیاں، گلاب آوازیں، شادماں گلیاں، لہلہاتے کھیت اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت خود میں دفن ہو جاتے ہیں۔ تو کیسا لگتا ہے؟
جون ایلیا بھی تو ایک آباد شہر تھا۔ بڑی زندہ روشنیوں اور آوازوں والا۔ اس کے ہر موڑ پر تاریخ اپنی شہادتیں نصب کرتی تھی۔ اس کے ہر در پر علم کے پھر میرے لہراتے تھے۔ یہ پھر میرے منطق کے دبیز استر میں باوزن ، عشق کے سبز رنگوں میں شاداب نہ جانے کتنی برکتیں گلی گلی رقم کرتے اگر یہ شہر اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت خود میں دفن نہ ہو گیا ہوتا۔ وہ گم ہو گیا ، یہ اس کا فیصلہ رہا ہوگا مگر وقت کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ پوچھ لیں موئن جو دڑو سے زمین کو اگلنا پڑتا ہے عظیم نشانیوں کو واپس۔ ہواؤں کو وقت کا حکم ماننا پڑتا ہے اور ساری گرد، مٹی، خاک سب صاف کرنی پڑتی ہے اسے ان زندہ دفن ہو جانے والی آبادیوں پر سے۔ ہم اپنی انگلیوں سے زمین کھود رہے ہیں، پورا شہر ڈھونڈنا ہے۔ یہ تو صرف چند گلیاں ہیں، چند موڑ ہیں، اس شہر کے جن کی چند بے بساط انگلیوں نے نشان دہی کی ہے۔ معلوم نہیں، میری سوچ کدھر نکلی جا رہی ہے۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے جو بہت دیر تک کرتے رہنے کو جی کرتا ہے مگر … مجھے تو وہ لکھنا ہے جو لکھنا بہت مشکل ہے۔
میری طرح شاید ہی کسی کو دقت پیش آئی ہو، اپنے احساس ممنونیت کے اظہار میں ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ میں تو بال بال سے مقروض ہوں اور وہ بھی کیسی کیسی ہستیوں کی۔ میرے عزیز اور محترم دوست سحر انصاری، جناب رضی مجتبی صاحب اور عنبریں سے میری طرف سے مبین مرزا نے درخواست کی اور قبول بھی ہوئی۔ کیسا افتخار ہے ایسی بے ساختہ دعا کا قبول ہو جانا اور کیسا عجب حوصلہ ہے مبین مرزا کی دوستی بھی انھوں نے کہہ دیا کہ کتاب آجائے گی تو بس معلوم تھا کہ ایک مہینے سے بھی کم وقت میں آ جائے گی ، تو کتاب آگئی ۔ مبین ! بھئی الفاظ نہیں ہیں ، سو، بس آپ خود ہی سمجھ لیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہو۔
آن لائن پڑھیے

سعود عثمانی صاحب بے حد مصروف تھے مگر میری درخواست پر نہ صرف خود مضمون لکھا بلکہ کسی طرح سلیم کوثر صاحب کو بھی ڈھونڈ کے ان کا خوب صورت مضمون حاصل کیا۔ الفاظ میں شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں سعود صاحب کہ حساب دوستان در دل والی بات ہے۔
سلیم کوثر صاحب بہت ممنون ہوں۔ اپنے بھائی جیسے دوست فرحت شہزاد کو بس کہہ دیا کہ لکھنا ہے۔ اپنی محبتوں کا بس ایسا ہی حساب کتاب ہے۔
دوست محمد خان صاحب کی والدہ کو شاید معلوم تھا کہ ان کا سپوت کسی خصلت کا ہوگا ، سو دوست نام رکھ دیا۔ دوستی کے نام پر کوئی مشکل ان کے لیے مشکل نہیں ۔ مجسم سپاس ہوں دوست محمد خان صاحب ، عرفان ستار صاحب اقبال حیدر صاحب اور شائستہ رضوی صاحبہ ٹھہرے جون بھائی کے خاص رشتے دار جون بھائی ان کا ماتھا چومیں گے اور مسکرائیں گے۔
ابو حمزہ جس کمال کے آرٹسٹ ہیں، ویسے ہی کمال کے ادب نواز ۔ یہ دعوت نامہ ان کی جون بھائی سے محبت کا خوب صورت ثبوت ہے، اور یادگار کے طور پر کتاب میں شامل ۔ تم نے سنا علی زریون ! ابھی جون بھائی نے کیا کہا ؟
تم آ گئے ! تم نے بہت انتظار کرایا۔ تمھاری ایک امانت میرے پاس رہ گئی ہے۔ یہ میرے خام اور نا تمام لفظ ہیں۔ یعنی میرے اشعار … وہ اشعار جو میں کہہ نہیں سکا۔“ اس کتاب میں موجود نام میری ”المدد کی ایک صدا پر لبیک کہنے والی وہ آوازیں ہیں جو ادب کے قریب مصلحت کو پھٹکنے بھی نہیں دیتیں۔ ایسی آوازوں کا میں نہیں مانتی کہ کال ہے، بلکہ بے شمار ہیں۔ ان میں سے چند ایسی محترم اتنی مکرم ہستیوں کے الفاظ کا یوں میسر آ جانا بھی شاید وقت کا ہی فیصلہ ہے۔ میں اس احساس ممنونیت کو جون بھائی کے الفاظ پر ہی ختم کرنا چاہتی ہوں۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.