...
جون ایلیا حیات اور شاعری
جون ایلیا حیات اور شاعری
ناشر: نیہا اقبال
مصنف: ڈاکٹر نیہا اقبال
کتاب کا نام :جون ایلیا : حیات اور شاعری
زبان:اردو
قیمت:۵۰۰
سن اشاعت: ٢٠١٩
تعداد:۵۰۰
۳۰۴ :صفحات
مطبع:نعمانی پرنٹنگ پریس لکھنو
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

جون ایلیا کی شاعری اپنی تخلیقی ہنر مندیوں کے سبب عوام اور خواص دونوں
حلقوں میں بہت مقبول ہے۔ شاعری کے علاوہ ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کا بھی
اعتراف کیا گیا۔
جون کی شاعری سادہ اور آسان ہے مگر اس کی سادگی کا حسن دراصل وہ سحر ہے جس میں پڑھنے والا گرفتار ہو جاتا ہے۔ فکر و احساس اور جذبے کی غیر معمولی کار فرمائی ہی جون کا حسن ہے اور ان کے اس حسن کا نور بتدریج پھیلتا جارہا ہے۔ نہ صرف ان کی شاعری پڑھی جارہی ہے بلکہ اس پر غور و فکر
کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ڈاکٹر نیہا اقبال صاحبہ نے جون ایلیا کی شاعری کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ اس کے مطالعہ سے جون کی ادبی قدر و قیمت کا خاطر خواہ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس اہم ادبی کاوش کے لیے مبارک باد پیش کی جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ جون شناسی کے باب میں یہ حقیق اہم ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر عمیر منظر
انتساب
والد ماجد رحمتہ اللہ علیہ کے نام اے خدا، تو میرے پاپا کو اپنی رحمت میں غرق کر لینا، جیسے انھوں نے میری ہر اک غلطی معاف کر دی، بے کہے میرے اور
مجھ کو لگا یا سینے سے اور زندگی کا شعور بخشا۔
امی جان کی نذر
جنھوں نے اس بو قلمونی دنیا میں جینے کے آداب سکھائے اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہم سب بھائی بہنوں پر تادیر قائم رکھے۔ آمین
حرف آغاز
جون ایلیا: حیات اور شاعری میری پہلی تحقیقی و تنقیدی کوشش ہے۔ اس سے قبل کئی مضامین مختلف رسائل میں شائع ہو چکے ہیں لیکن باضابطہ طور پر کوئی کتاب منظر عام پر نہیں آسکی۔ والدہ ماجدہ کے مسلسل اصرار پر اپنا تحقیقی مقالہ شائع کرانے کا عزم کیا۔ مقالے پر ڈگری تفویض ہونے کے بعد نظر ثانی کی گئی اور اب یہ کتابی شکل میں آپ جیسے ناقدین ادب کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ جون کی حیات اور خدمات پر مختلف قلم کاروں کے تقریباً ۱۲۵ مضامین کو مرتب کرنے کا ارادہ ہے۔
جون ایلیا سے میرا وطنی رشتہ ہے اور شاعری سے دلچسپی ہونے کی بدولت جون کی جانب متوجہ ہونا فطری تھا۔ یوں تو میں بچپن سے ہی ان سے متعلق واقعات سنتی آئی تھی لیکن خواب و خیال میں بھی میں نے ان پر تحقیقی کام کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور نہ ہی میں خود کو اس کا اہل بجھتی تھی مگر مجھے ہمیشہ اس کا افسوس رہتا تھا کہ جون پر باقاعدہ کوئی کتاب کیوں نہیں آئی؟ اور جب میں یہ دیکھتی کہ ان کے معاصرین پر مسلسل تنقیدی و تحقیقی کتا بیں منظر عام پر آرہی ہیں تو میرا یہ افسوس غصے میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ میری خوش نصیبی ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں میرا داخلہ ہوا، تو میں نے جون ایلیا پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے خوشی کے ساتھ قبول بھی کر لیا گیا اور اس طرح میرے تحقیقی مقالے کا عنوان ” جون ایلیا کی شاعری کا تنقیدی جائزہ تجویز ہوا۔
آن لائن پڑھیےحصہ دوم

پانچ سالہ اس تحقیقی سفر میں نہ جانے کتنے لوگوں سے رابطہ ہوا جن میں سے بیشتر نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے روشن مستقبل کی دعاؤں سے نوازا تو وہیں بعض لوگوں نے حوصلہ شکنی بھی کی ، ان کا کہنا تھا کہ جون پر کام کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میں یہ بات سنتی اور جوابا صرف اتنا ہی کہتی کہ کچھ حاصل ہو یا نہ ہو جون تو ضرور حاصل ہو ہی جائے گا۔ جون ایلیا سے متعلق ایک خاص بات جو اکثر میرے سامنے آئی وہ یہ کہ جون سے نا واقف لوگ جب ان کا نام سنتے ہیں تو وہ ، نہ تو ان کو اردو زبان کا شاعر سمجھتے ہیں اور نہ ہی مسلمان ۔ مقام حیرت ہے کہ بعض لوگ بر بنائے جہالت ان کو مؤنث سمجھتے ہیں اور ان جہلاء کے لیے وہ کوئی یوروپین شاعرہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جون ایلیا کی شخصیت کی طرح ان کا نام بھی منفرد ہے۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.