...
گمان جون ایلیا
گمان جون ایلیا
نسخے: 02
شاعر کا نام:جون ایلیا
کتاب کا نام :گمان
اشاعت سوم:اگست 2006
اشاعت دوم:مئی 2005
اشاعت اول: اکتوبر 2004
مصور:خالد احمد انصاری
تالیف و ترتیب:خالد احمد انصاری
عکاسی:انجینئر عارف خان
تعداد:ایک ہزار
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

انتساب
اس یقین کے نام جو قارئین کی شعر شناسی پر ہے
بخشش ہوا یقین، گماں بے لباس ہے
ہے آگ جامہ زیب دھواں بے لباس ہے
چند باتیں
نوئے اکیانوے کے دنوں میں ہم چند دوستوں کے درمیان جون ایلیا کی کتاب شاید موضوع گفتگو بنی رہتی تھی۔ اس میں لکھا جانے والا دیباچہ نیاز مندانہ اور شاعری دونوں ہی ہمارے لیے انتہائی چونکا دینے والے تھے۔ نہ تو ہم نے ایسی نثر پڑھی تھی اور نہ ہی شاعری ۔ ہم پہروں اس کتاب کے منفرد لہجے کے سحر میں ڈوبے اس میں اٹھائے جانے والے متعدد کا ئناتی : فلسفیانہ سوالات پر گفتگو کرتے رہتے تھے۔ یقینا اس کتاب کا مصنف ہمارے لیے اساطیری شخصیت کا درجہ رکھتا تھا۔
انہی دنوں ہماری ملاقات ایک نوجوان جاوید آدرش ( معنی ) ( ان کو ہم جاوید بھائی کہا کرتے تھے ) سے ہوئی۔ انتہائی دبلا پتلا قریب کی نظر کی عینک لگائے یہ نو جوان بلا کا مطالعہ کا شوقین اور شاعر تھا۔ چند ہی ملاقاتوں کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہ جون ایلیا کے شاگرد ہیں اور ان سے اصلاح بھی لیا کرتے ہیں ۔ ہم نے فوراً جاوید بھائی سے جون ایلیا سے ملاقات کرانے کی درخواست کر دی۔ انہوں نے کہا یار یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ہر ہفتہ کی شب میں جون بھائی کو اپنے فلیٹ پر لے آتا ہوں رات وہ ادھر ہی قیام کرتے ہیں اور اگلے روز شام تک رہتے ہیں ۔ تم لوگ ایسا کرو ہفتہ کی رات کو میرے فلیٹ پر آجاؤ ملاقات ہو جائے گی۔
اس طرح سے ہمارا تعارف سیدی جون ایلیا سے ہوا اور ہماری ہیئت ترکیب کچھ اس طرح سے ظہور پذیر ہوئی جیسے فن کیمیا میں نامیاتی اجزا کی ۔ سو نوجوانی کے وہ دن خیال و خواب کے دن جون بھائی کے نام ہو گئے ۔ ہر شام دھوپ ڈھلے ہم جون بھائی کو گھیر لیتے اور نہ جانےکہاں کہاں سے اور کون کون سے موضوعات ہماری گفتگو بننے لگے۔
اس زمانے میں جاوید بھائی نے جون ایلیا کے بکھرے کلام کو سمیٹنے کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کی خواہش تھی کہ جون بھائی کی ہر سال ایک کتاب شائع کی جائے (جون ایلیا کے رفقا میں ان سے اتنا زیادہ مخلص اور محبت کرنے والا میں نے کوئی اور شخص نہیں دیکھا ) ۔ رجسٹروں پر ان کے کلام کو منتقل کرنے کا کام میرے اور جاوید بھائی کی بھا بھی اسماء ولی کے سپر د ہوا۔ ہم نے رات دن کا شمار کیے بغیر ان کے کلام کا بڑا حصہ رجسٹروں پر منتقل کر دیا لیکن آگے زندگی کیا داؤ چلنے والی تھی ہم اس سے قطعی بے خبر تھے۔
جون اس آن تک بخیر ہوں میں
زندگی داؤ چل گئی ہوگی
آن لائن پڑھیےحصہ اول

آن لائن پڑھیےحصہ دوم

ہمارے عزیز ترین دوست جاوید آدرش ( معنی ) لواچانک سینسر تشخیص ہوا اور وہ صرف دو ماہ کی مختصر (کیموتھراپی) کے دوران اپنی زندگی ہار گیا۔ اس کی موت اس قدر شدید سانحہ تھی جس سے ہم سب ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئے ۔ جون بھائی کے کلام کی اشاعت کے ہمارے سارے منصوبے درہم برہم ہو گئے ۔ جون بھائی جو ویسے ہی بکھرے ہوئے تھے اور بکھر گئے۔ دوران جون کے وہ وہ بنا گئے ۔ اسی دوران جون بھائی سے وہ مکان بھی چھوٹ گیا جسے وہ ساری زندگی گھر نہیں بنا سکے۔ ہجرت کے ان دنوں میں ہم سب کا رابطہ جون بھائی سے منقطع ہو گیا اور سچ تو یہ ہے کہ جاوید بھائی کی وفات کے بعد پھر اسی طرح کی نشستیں اور ملاقاتیں اس کے بغیر کرنے کی ہم میں ہمت ۔
جون بھائی سے قربتوں کا دوسرا دور گزشتہ ہزاریے کے اختتام سے لے کر ان کی زندگی کے آخری دن تک مشتمل ہے۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ جون بھائی ہمارے ہی محلے میں علامہ علی کر ار نقوی کے گھر قیام پذیر ہیں تو ایک شام میں اور آغا سیم ان سے ملاقات کیلئے وہاں پہنچ گئے ۔ اتنے سالوں کے بعد اچانک ہمیں دیکھ کر جون بھائی حیران رہ گئے اور کہنے لگے جانی ! تم لوگ آئے نہیں ہو تمہیں بھیجا گیا ہے۔ اس طرح جون بھائی سے تجدید پیماں ہوا اور یوں ایک بار پھر صبح و شام جون بھائی کی محبت کا ہدف بن گئے ۔ جون بھائی کے آخری دو سالوں میں صرف میں اور آغا وسیم ان کے روز کے ملاقاتی تھے۔
یہ دن جون ایلیا کیلئے عذاب دن تھے۔ زندگی کی ساری خواہشیں ترک کر کے جون بھائی کمرہ نشین ہو گئے تھے۔ خواب دیکھنے والا خواب سوچنے والا خوابوں سے کنارہ کش ہو گیا تھا۔ جون بھائی ان دنوں ایک جملہ بہت بولتے تھے جانی! اب کوئی لونڈیا ہم سے عشق نہیں کرتی ۔ یعنی جون ایلیا کے خواب نا تمام خواب تمام ہو چکے تھے۔ جون بھائی کے ان آخری دنوں کا میں مکمل ہم راز ہوں جس پر کبھی میں تفصیل سے لکھوں گا۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.