...
گویا جون ایلیا
گویا جون ایلیا
مرتب: خالد احمد انصاری
شاعر کا نام:جون ایلیا
کتاب کا نام :گویا
زبان:اردو
ناشر:انیس امروہوی
تعداد:400
سر ورق:مسعود التمش
308 :صفحات
کمپوزنگ:رچنا کار پروڈکشنز لکشمی نگر، دہلی ۱۱۰۰۹۲
مطبع:کلاسیک آرٹ پر نٹرس، چاندنی محل، دریا گنج نئی دہلی ۱۱۰۰۰۲
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

کہتے ہیں جس کو ذات وہ گویا کہیں نہیں
دنیا میں دیکھ آئے ، یہ در، وا کہیں نہیں
جون ایلیا
انتساب
جون ایلیا کے محرم دوست معروف شاعر سید حسن عابد مرحوم کے نام
!…..جانے کیا ہو
جون ایلیا کا پانچواں مجموعہ کلام ” گویا نذر قارئین ہے۔ جون ایلیا کی شاعرانہ عظمت کو اُن کی زندگی میں ہی تسلیم کر لیا گیا تھا مگر اُن کے کلام کی بروقت اشاعت نہ ہونے کی وجہ سے اُن کے کلام کے بارے میں مختلف اندازے اور تخمینے لگائے جاتے رہے۔ بعد ازاں جیسے جیسے اُن کے مجموعہ ہائے کلام منظر عام پر آتے گئے انہوں نے اُن کے کلام سے منسوب وہ تمام دعوے درست ثابت کر دیے جو اُس سے متعلق کیے جاتے رہے تھے اور اُن کی شاعری کو مزیدوسیع تناظر میں دیکھنے پر مجبور کر دیا۔
گویا جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ گویا اپنے انداز و فکر کے الگ ہی رنگ لیے دبستانِ جون کو واضح طور پر سامنے لایا ہے۔ یہ مجموعہ اس تاثر کی نہ صرف نفی کرتا ہے جس کے مطابق جون ایلیا کا اہم کلام شائع ہو چکا ہے بلکہ اس تاثر کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوگا کہ جون ایلیا کا صرف وہ ہی کلام اہم نہیں تھا جو کہ اُن کی مشاعروں کی
ضرورت بن گیا تھا۔
گویا جون ایلیا کی ہلاکت خیز غزلوں اور نظموں کا ایسا امتزاج ہے جو اس سے قبل اُن کے کسی مجموعہ میں دیکھنے میں نہیں آیا اور جس کی توقع شاید اُن کے بے حد قریبی لوگ بھی نہ کر رہے ہوں ۔ اُس کی وجہ جون ایلیا کا وہ کلام ہے جو میری جستجو اور اُن کے عاشقوں کی والہانہ عقیدت کے نتیجہ میں دستیاب ہوا۔ اُس کلام نے میرے پاس موجود کلام کو وہ قوت بخشی جوان کے کلام کی اصل روح ہے جسے سامنے رکھ کر میں نے اس مجموعہ کو ترتیب دیا ہے۔
جون ایلیا کے رجسٹروں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب ایک تحقیقی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے لوگ جو کہ جون ایلیا کی زندگی میں اُن سے منسلک ہو کر محبت کرتے رہے آج بھی اُن سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔ جون ایلیا کے ایسے ہی کچھ عاشقوں نے ان کے مجموعوں کے سلسلے میں کی گئی میری کوششوں کو سراہتے ہوئے جون ایلیا کا جو کچھ کلام اُن کے پاس موجود تھا مجھے مہیا کیا تاکہ میں زیادہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری کو ادا کر سکوں ۔ جس میں پیش پیش جون ایلیا کے بھتیجے علامہ علی کرار نقوی صاحب تھے۔ علامہ صاحب اس سے قبل بھی اُن کے مجموعہ کے لیے کلام دے چکے ہیں اور حسب وعدہ اس مرتبہ بھی انہوں نے مجھے یہ کہہ رکھا تھا کہ ان کے کتب خانے میں جون ایلیا سے متعلق کوئی بھی ایسی چیز موجود ہو جسے شائع کیا جا سکے اُن کے مجموعہ کے لیے حاضر ہے ۔ علامہ علی کرار نقوی صاحب کے جون ایلیا سے دائمی رشتے کو میں قابل قدر سمجھتا ہوں اور آئندہ جون ایلیا کی سوانح عمری یادگار جون ایلیا میں اُن کی جون ایلیا کے لیے خدمات کے حوالے سے مفصل طور پر تحریر کروں گا۔
آن لائن پڑھیے

مرحوم دوست جاوید معنی کے بڑے بھائی شیخ محمد ولی اور بھا بھی اسماء ولی نے بھی جون ایلیا سے اپنی محبت اور عقیدت کا رشتہ خوب نبھایا۔ اُن کے پاس جون ایلیا کے کلام کا وہ حصہ محفوظ تھا جو اُس وقت کی یادگار ہے جب جون ایلیا اُن کے گھر قیام کیا کرتے تھے اور ہم سب مل کر ان کے مجموعوں کے لیے کام کر رہے تھے۔ جون ایلیا شاید خود بھی اپنے اس کلام کو
فراموش کر چکے تھے جو اب اُن کے مجموعوں کا حصہ بننے جارہا ہے۔
عاشق جون، ڈاکٹر خورشید عبد اللہ ایک عرصہ تک جون ایلیا کے قریبی صحبت دار ر ہے ۔ اُن کا جون ایلیا سے عقیدت کا یہ حال تھا کہ جب کبھی اُنہیں جون ایلیا کی کوئی غزل، نظم یا قطعہ ملا اُسے فورا فوٹو اسٹیٹ کروا کے اپنے پاس محفوظ کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ اس طرح وہ جون ایلیا کے کلام کو اپنے طور سے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ جون ایلیا کی بے ترتیب بود و باش کی وجہ سے اُنہیں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں یہ سب ضائع نہ ہو جائے ۔ اُن کی اس قبل از وقت احتیاط نے بہت کچھ برباد ہونے سے بچالیا۔ ڈاکٹر خورشید عبداللہ کے دیے گئے کلام میں زیادہ حصہ جون ایلیا کے پہلے مجموعہ کلام ” شاید کے ان اشعار کا ہے جو شائع ہونے سے رہ گئے تھے اور جون ایلیا خود کہا کرتے تھے کہ وہ شاید کو ان اشعار کے ساتھ شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قارئین جلد ہی شاید کے اضافی ایڈیشن میں ان اشعار سے محظوظ ہو سکیں گے۔
اب مسئلہ اس دستیاب شدہ کلام کو اس شکل میں لانے کا تھا کہ وہ شائع ہو سکے۔ بیشتر کاغذ بوسیدہ ہونے کی وجہ سے پھٹ رہے تھے یا اُن کے الفاظ کہیں کہیں سے مٹ چکے تھے۔ جس کی وجہ سے اشعار کے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ کچھ غزلوں کے کئی کئی (ورژن) تھے۔ جس میں زیادہ مربوط اور جامع کا انتخاب کرنا تھا۔ اس مشکل صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے جون ایلیا کے لڑکپن کے دوست محترم پروفیسر طہیر نفسی سے مدد کرنے کی درخواست کی طہیر بھائی خود اپنی آنکھوں اور طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے کافی پریشان تھے مگر میری دلچسپی اور اصرار کو دیکھتے ہوئے بالآخر راضی ہو گئے ۔ پروفیسر طہیر نفسی نے اپنے دوست اور جون ایلیا کے عالمی ڈائجسٹ کے دنوں کے عالم بزرگ رفیق کار محترم سید علی قاصد زیدی صاحب کے ساتھ مل کر اُن پھٹے اور مٹے ہوئے اشعار کو پڑھنے میں میری مدد کی اور انہیں ضائع ہونے سے بچا لیا اور ساتھ ہی اس مجموعہ ” گویا” کے کلام کو بھی دیکھا کہ کہیں کسی غلطی کا احتمال نہ رہ جائے ۔ جون ایلیا کی رٹائی نظم “مرگ ناگہانی پر محترم ظہیر نفسی کا مضمون مرگ مسیحائی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ان دونوں محترم حضرات کی مدد کے بغیر میں اس کلام کو قابل اشاعت حالت میں نہیں لاسکتا تھا۔
عجب ہی کچھ ہے اس بستی کا انداز
کچھ اندازہ نہیں ہے جانے کیا ہو

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.