...
غزل بہانہ کروں احمد فراز
غزل بہانہ کروں احمد فراز
نسخے: 01
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :غزل بہانہ کروں
زبان:اردو
پبلیشر:کتابی دنیا
اشاعت : 2004
قیمت:۸۰ رویے
مطبع: کاک پر نٹرس، دیلی
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

آتش فشاں
کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اُسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اُسے
احمد فراز کے تذکرے کے لئے کہ جواب کتابوں میں نہ سما سکے:تفصیل تو کجا مجھ سے آپ کسی ترتیب کی بھی توقع نہ رکھیں۔ قدرت نے اپنی بے شمار نوازشات میں ایک کرم مجھ پر یہ بھی کر رکھا ہے کہ میں غلط فیصلے بھی ٹھیک وقت پر کرتا ہوں۔ سو میں نے پہلے فراز کی ذات پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہ فراز کی شاعری کا تذکرہ مجھ پر نسبتا عمل بھی ہو گا۔ سل اس لئے کہ مجھے تجزیاتی سمندروں کے پانیوں میں نہیں اترنا۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں کہ فراز تو اب شاعری کے اس مقام پر ہے جہاں وہ اپنے معیار خود بنا سکتا ہے
فراز سے پہلی ملاقات ۱۹۴۸ء میں ایبٹ آباد کی پہاڑی پر:خان فقیرا خان جدون کے حجرے میں ہوئی جو صوبہ سرحد کی ایک اہم دلچسپ اور پر اسرار صحافتی، سماجی اور سیاسی شخصیت تھے۔ محسن احسان بھی ساتھ تھے۔ موسم برسات کی یہ شام باہر کی طرح اندر بھی خاصی بھیگی رہی۔ یہ دونوں ان دنوں اپنی جوانی اور شاعری کی دہلیز پر انگڑائیاں لے رہے تھے۔ دونوں کے چروں کی طرح دونوں کی شاعری بھی چونکا دینے والی تھی۔ میٹھے دونوں تھے۔ مگر محسن احسان دھیما اور شرمیلا – فراز شوخ و شنگ، گلفته، چهب دلبرانه ،ڈهب جارحانہ ۔ آدمی اس سے مل کر بھول نہ سکتا۔ نہ اس کو نہ اس کی شاعری کو۔ فراز ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے جو پروفیسر شوکت واسطی اور راقم نے “کشمیر فنڈ” کے لئے برپا کیا تھا ایبٹ آباد آئے تھے۔ مشاعرے میں دو شاعروں ہی سے سامعین کے اصرار پر کشمیر کے موضوع کے علاوہ ان کی مقبول نظموں کی فرمائش کی گئی۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری سے بوڑھی رقاصہ” کی اور ر احمد فراز کی نوجوان ” تختی
” کی۔
آن لائن پڑھیے

اس مشاعرے کا یہ حیران کن منظر بھی مجھے یاد ہے کہ مشاعرے کے اختتام پر ” آٹو گراف لینے کا جتنا ہجوم حفیظ صاحب کے گرد تھا اتنا ہی ہجوم فراز کے گرد تھا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس لڑکے کو زیادہ تر کالج کی طالبات نے گھیر رکھا تھا۔ غالبا اس کی شاعری کے ساتھ اس کی شکل بھی سامعین کے دل میں گھر کر گئی تھی۔
جنرل نذیر احمد بھی خاصی دلچسپی کے ساتھ اپنے ہیڈ کوارٹر میں چائے پر اپنے گورے “جی دن” کرتل بلیک اور فسروں میجر ذہین الدین اور کیپٹن (اب ریٹائرڈ بریگیڈئیر) قوم کے سامنے فراز کا تذکرہ کرتے رہے۔ گویا طالبات ہی نہیں جرنیل بھی اس سے متاثر ہوا۔ جنرل صاحب کو کیا معلوم تھا کہ یہ لڑکا آگے چل کر بھی جرنیلوں کو متاثر کرے گا مگر کچھ دوسرے قرینے ہے۔
ایسے شعراء تو بہت ہیں کہ لوگ ان کا لکھا ہوا چاؤ سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر فراز کو فیض اور جالب کی طرح جو بات دوسرے شعراء سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ کچھ ایسے کام بھی کر گیا کہ لوگ اس کو محبت سے یاد بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ معلوم نہیں میں اپنے ایک تاثر کو واضح طور پر بیان کر سکوں یا نہ کر سکوں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ فراز اسی قسم کی شاعری کرتا ہے جس کے لئے خود شاعری تحقیق ہوئی ہے۔ تاریخ میں اس کا شمار ان شعراء میں ہو گا۔ جن کے دل سے ” علامہ اقبال کے ایک قول کے مطابق قو میں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔ اس محمد کے ایک بے حد مقبول اور اتنے ہی متنازعہ شاعر کی حیثیت سے فراز کی حمایت اور مخالفت میں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور لکھی جائیں گی۔ ملک میں نہ اس کے پرستاروں کا شمار ممکن ہے نہ اختلاف کرنے والوں کی کمی ہے۔ بہت لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور اس کو پسند بھی کرتے ہیں۔ سو اس تناظر میں احمد فراز کو نہ ہمارا ادب فراموش کر سکتا ہے اور نہ ہماری تاریخ۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.