...
بودلک احمد فراز
بودلک احمد فراز
نسخے: 02
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :بودلک
زبان:اردو
اشاعت حصہ دوم:2005
اشاعت حصہ ساول: 2002
قیمت:۸۰ رویے
مطبع: کاک پر نٹرس، دیلی
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

کتاب کا مختصر تعارف
مرے تمام دوست اجنبی رفاقتوں میں گم
مری نظر میں تیرے خدوخال تیرے خواب تھے
وہ کافر جو۔۔۔۔۔
بہت پہلے میں نے ایک افریقی ادیب داب اس کا نام یاد نہیں، کا ایک کھیل The Oda Oak پڑھا تھا۔ مجھے یہ بہت پسند آیا اور میں نے چاہا کہ اسے اردو نظم میں منتقل کروں ۔ تھوڑا بہت آغاز بھی کیا مگر پھر کتاب کہیں ادھر اُدھر ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد مجھے ریڈیو پاکستان پشاور کے ڈائریکٹر جناب سجاد حیدر صاحب نے کہا کہ میں چترال جاؤں اور وہاں کا فرستان دادی کے لوگوں کی بود وباش کے بارے میں کچھ مواد اکٹھا کروں۔ میری مدد کے لیے انہوں نے ایک انجنیتر سعید اور ایک پروڈیوسر باسط علیم صدیقی جو خود بھی ایک ممتاز ڈرامہ نگار ہیں، ہمراہ کر دیتے۔ میں نے اپنے طور پر اس قافلے میں اپنے دیرینہ دوست ضیاء الدین ضیار کو بھی شامل کر لیا اور ہم سرکاری جیب میں چترال کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ سفر کچھ تو ہمراہیوں کی وجہ سے اور کچھ ایک نئی دنیا کی دید کے شوق نے کافی Thrilling بنا دیا، ہم وہاں ہفتہ دس دن ایک کافرستان کی مختلف وادیوں کیلاش بمبرت وغیرہ میں گھومتے رہے “کافر” لوگوں کے رہن سہن، رسم و رواج، زبان، رقص اور موسیقی کے بارے میں مشاہدات جذب اور مواد جمع کرتے رہے۔ یہ سفر بہت ہی زیادہ دلچسپ، معلوماتی اور کہیں کہیں انتہائی خطرناک بھی تھا۔
آن لائن پڑھیے حصہ ساول
آن لائن پڑھیے حصہ دوم

ہم وہاں کی کیلاشی زبان اور دوسری مقامی بولیوں کے لوک گیت اور ان کی دھنیں اس طرح خوشی اور تجس سے جمع کرتے رہے جیسے مغربی مہم جو افریقہ سے سونا اور قیمتی پتھر لایا کرتے تھے۔ بہر طور یہ سفر اپنی جگہ ایک سفر نامہ کا حق رکھتا تھا میرا ارادہ بھی تھا کہ میں کچھ لکھوں لیکن میں نے جو Notes تیار کیے تھے وہ کہیں ادھر ادھر ہو گئے اور آج تک نہیں ملے ۔ البتہ ایک شام جس کا پورا تاثر میرے دل و دماغ میں نقش ہو گیا وہ کافر دو شیزاؤں کا رقص تھا اور ان کی سرخیل کشان بی بی کا حسن اور دلفریب شخصیت
تھی۔ یہیں مجھے غالب کا مصرعہ بار بار یاد آیا۔
وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جاتے ہے مجھ سے

چنانچہ پشاور پہنچتے ہی میری پہلی تخلیق کشان بی بی تھی جو میری کتاب نایافت میں شامل ہے۔ دوسری تخلیق بود لک کا منظوم ڈرامہ ہے جو کافرستان کے بعض روایتی کرداروں اور کچھ افریقی مصنف کے اوڈا اوک (Oda (Oak) کا مطلوبہ ہے۔ میں اسے نہ تو ترجمہ کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی (Adaptation) جب ریڈیو پاکستان پشاور نے جشن تمثیل کے لیے منظوم کھیل کا تقاضا کیا تو میرے ذہن میں کافرستان کے کردار ، وہاں کے رسم و رواج اور محبت و رقابت کے جذبات لشکار نے لگے ۔ چنانچہ میں نے یہ منظوم کھیل لکھنا شروع کر دیا۔ کھیل کے آخری حصے تو اس طرح لکھے گئے کہ ادھر ریڈ یو پاکستان کا نقل نویس کاغذ اور قلم لیے تیار بیٹھا ہوتا اور ادھر میں منظوم سطروں کی پرچیاں لکھ لکھ کر اس کے حوالے کرتا اور مسودے کی کاپیوں کے بنتے ہی ڈرامہ محمد اس کا ریہرسل کرنے لگتے۔ اس محبت اور افراتفری میں اس من منظوم کھیل کی
تعمیل ہوئی۔
جب یہ نشر ہوا تو خاصی تنازعہ چلی۔ بعض لوگوں نے اسے فحش اور قابل سلامت گردانا اور بعض سننے والوں نے اسے تازہ ہوا کا جھنوں کا قرار دیا۔
بہر طور یہ مسودہ پڑا رہا۔ پچھلے دنوں کہیں کباڑ خانے میں کسی اور مسودہ کی تلاش میں تھا کہ یہ پلندہ مل گیا۔ میں نے ایک نظر دیکھا پھر پڑھا۔ مجھے اچھا لگا اور اپنے پیار آصف محمود صاحب کے سپرد کر دیا۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ اسے چھاپ کر آپ کے سپرد کر دیا جائے۔ میں اس کے بارے میں اور کچھ تو نہیں کہہ سکتا مگر صرف یہ کہ ہے پڑھنے کی چیز کہ نہ مجھے اس تحریر پر تحر ہے اور نہ ہی ندامت۔

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.