...
بے آواز گلی کوچوں میں احمد فراز اشاعت: ۱۴ اگست ۱۹۸۲
بے آواز گلی کوچوں میں احمد فراز اشاعت: ۱۴ اگست ۶۱۹۸۲
اشاعت اول: ۱۴ اگست ۱۹۸۲
شاعر کا نام:احمد فراز
کتاب کا نام :بے آواز گلی کوچوں میں
زبان:اردو
صفحات:۱۱۶
ناشر : نیش پبلیکیشنز
ٹوٹل مضامین:۵۸
مطبع: انٹرلنگ لان گراف۔ لندن
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

کتاب کا مختصر تعارف
مصنف احمد فراز نے اپنی اس کتاب کا اغاز اس شعر سے کیا:بے آواز گلی کوچوں میں غزل سرا ہے شہر سخن کا ایک مسافر تنہا تنہا
احمد فراز نے اس کتاب میں مختلف مضامین بیان کیے جس میں ناموجود سویا تھا یا جاگ رہا تھا, کی رات ہم سے کہیں سب دوست ہمارے مت لکھو, اور بھی مختلف مضامین بیان کیے اور ان مضامین کو فیض احمد نے شعروں میں ان تمام مضامین کو بیان کیا ہے یعنی اس کا کتاب میں مضامین کے ساتھ ساتھ شعر بھی بیان کی ہے اور غزلیں بھی بیان کی ھیں۔
آن لائن پڑھیے
ناموجود
اے خدا تیری مخلوق,جبر کے اندھیروں میں,دفن ہو دفن ہو چکی کب کی,تیرے آسمانوں سے,نامزد فرشتوں کی,اب سفارتیں کیسی,بے وجود بستی میں,لوگ اب نہیں رہتے,سکیاں سکتی ہیں,سائے سرسراتے ہیں میں,سورجوں ، ستاروں کی,آب بشارتیں کیسی
دوسری ہجرت

پھر مرے مکہ سے پیغمبر ہجرت کر کے چلا گیا ہے,اور اب پھر سےکعبہ کے رم خوردہ ثبت اصنام طلائی اپنی اپنی سندپر آبیٹھے ہیں سچ کا لہو اُن کے قدموں میں غنابی قالین کی صورت بچھا ہوا ہےکم خوابی خیموں کے اندربزم حریفاں پھر سجتی ہےکذب و ریا کی دف بجتی ہے
اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.