...
اے عشق جنوں پیشہ احمد فراز
اے عشق جنوں پیشہ احمد فراز
اے عشق جنوں پیشہ احمد فراز
سرورق:صادقین 
شاعر: فرازاحمد
کتاب کا نام :اے عشق جنوں پیشہ
زبان:اردو
صفحات:208
اشاعت :2007
قیمت:225.00 روپے
تزیین:خالد رشید
مطبع : ورڈ میٹ ، اسلام آباد
ناشر:آئیڈیل فاونديشن مبئی
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

کتاب کا مختصر تعارف
مصنف احمد فراز نے اپنی اس کتاب کا اغاز اس شعر سے کیا: جو ابتدائے سخن ہے جو انتہائے سخن تمہارے نام ہے ساری مری متاع سخن
احمد فراز اپنی اس کتاب اے عشق جنوں پیشہ مختلف مضامین بیان کیے جس میں احمد فراز کی شاعری جو کہ پرویز شمیم حنفی نے بیان کی اور دوسرا اس کے اے عشق جنوں پیشہ اور بہت ہی مشہور مضامین اس میں ذکر کیے جس میں احمد فراز کی شاعری اور دل کی باتیں ذکر کی ہیں۔
اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔
آن لائن پڑھیے

احمد فراز کی شاعری
معروف شخصیتوں اور تخلیقات کے گردہ کبھی کبھی، ایک رمز آمیز دائرہ ایک ہالہ سا بن جاتا ہے۔ ہم کبھی تو اس ہالے کو اس شخصیت یا تخلیق تک رسائی یا اس سے شناسائی کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ اس شخصیت یا تخلیق تک پہنچنے کے لیے اسے توڑنا منتشر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ احمد فراز کی شاعری کے گرد سب سے زیادہ دُھند ان کی بے حساب شہرت اور مقبولیت نے پھیلائی ہے۔ ہمارے زمانے میں اچھی نظم اور اچھی غزل کہنے والے منیر نیازی سے لے کر احمد مشتاق تک اور لوگ بھی ہیں۔ لیکن ان کے اوصاف اور ان کی پہچان کے نقش و نشان بہت صاف اور واضح ہیں کہیں کوئی متنازعہ ، کسی طرح کا دھندلکا نہیں ہے۔ لیکن فراز کی عام مقبولیت اور بے حساب شہرت نے ان کی شاعری پر سنجیدہ سوچ بچار کے راستے میں خاصی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال فیض صاحب کے معاملے میں بھی سامنے آئی تھی۔ ان کے ہم عصروں میں ن م راشد سے سردار جعفر کی تک، ان کی شہرت اور مقبولیت ایک مستقل مسئلہ بنی رہی۔ کسی نے ان کو فکری تساہل کا قصور وار ٹھہرایا، کسی نے خارجی آرائش وزیبائش کو ان کی شاعری کی عام کشش کا سبب بتایا۔ لیکن فیض صاحب اپنے اعتماد خلقی اور استغنا کے ساتھ اپنا سا شعر کہتے رہے۔ انہیں کبھی بھی اس بات سے غرض نہیں رہی کہ ان کے بعض جید معاصرین کی طرف سے ان کی شاعری پر جو اعتراضات وارد ہوئے ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے۔
احمد فراز، فیض صاحب کے بعد ہمارے مقبول ترین شاعر ہیں ۔ انہیں جیتے جی ایسی شہرت ملی ہے جو افسانہ بن جاتی ہے۔ فراز کے بعض معاصرین بھی ان کی شاعری پر معترض ہوتے ہیں اور 1960ء کے بعد کی نظم اور غزل کے جائزوں میں اکثر فراز سے زیادہ ذکر ایسوں کا بھی ہوتا ہے جو ان کی شاعرانہ حیثیت کو نہیں پہنچتے۔ لیکن فراز کے تخلیقی انہماک میں اس واقعے سے کبھی فرق نہیں آیا۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہی ہے کہ چالیس پینتالیس برس تک مسلسل اتنی شہرت اور مقبولیت کا بوجھ سنبھالے رکھنا، بجائے خود ایک اتی شہرت کارنامہ ہے۔ دوسری اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فراز کی شاعری کے اوصاف اور محاسن کی بنیادوں تک دھری اور یہ کی اور کی پہنچنے کی کوئی با ضابطہ کوشش ابھی تک تو ہوئی نہیں۔ غیر معمولی شہرت اور بے تحاشا مقبولیت اس شاعری کا حجاب بن کر رہ گئی ہے۔ میرا اپنا تعارف اس شاعری سے تقریب انہی دنوں ہوا جب فراز کی ابتدائی نظمیں اور غزلیں پہلے پہل شائع ہوئی اور میرے اولین تاثر کی تصدیق اس وقت ہوئی جب فراق کی تازہ تصویر دیکھ کر کہی جانے والی ان کی ایک نظم سامنے آئی۔
ایک سنگ تراش جس نے برسوں
ہیروں کی طرح منم تراشے
آج اپنے صنم کدے میں تنہا
مجبور ند حال زخم خورده
دن رات پڑا کراہتا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.