...
ارزانہ قاضی فراز احمد
ارزانہ قاضی فراز احمد
سرورق: حامد اقبال صدیقی 
مصنف کا نام:قاضی فراز احمد
کتاب کا نام :ارزانہ
زبان:اردو
صفحات:160
اشاعت :ستمبر 1999ء
تعداد:ایک ہزار
کمپوزنگ: ڈائمنڈ گرافک
طابع و ناشر : عنایت اللہ قاضی۔ شجاع قاضی
ناشر:آئیڈیل فاونديشن مبئی
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

کتاب کا مختصر تعارف
قاضی فراز نے اپنی اس کتاب میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریفات کی ہیں انہوں نے اس کتاب میں مختلف قسم کی مضامین بیان کی ہیں جس میں انہوں نے طور پر حمد پاک شان عطا رب غفور دل دل کی پکار ذات باری تعالی توصیف اور باب نعت میں انہوں نے مدینہ میں امد حضور اور روئے منور جیسے مضامین بیان کیے۔
اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔
آن لائن پڑھیے

قاضی فراز احمد:دل کی باتیں
دل و احساس : الحمد اللہ یہ کرم خاص اور نوازش رب عظیم ہے کہ ” عرضانہ “ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ غزلیں، نظمیں اور دیگر صنف میں فکری شجاعت یا جسارت ، نملو ، طنز اور استہزاء تک بھی پہنچ جاتی ہے۔مگر اس وادی خیال و فکر و حقیقت کی رہگزار پر سنبھال کر چلنا ہوتا ہے۔ الفاظ کے سلوک اور حسن سلوک اور تعلیق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جہاں آپ احساس جذبے، عقیدے اور دین حق کا فرض ادا کر رہے ہوں۔ یا قرض ادا کر رہے ہوں۔ تصوراتی حوصلے کے پر بھی کاٹنے پڑتے ہیں۔ اور اظہار کی فصیل پر بھی پہنچنا ہوتا ہے۔ ہنر مند لفظوں کے مزاج کو سمجھنا۔ معنی و مطالب کی ہوا کو پہچاننا ۔ عقیدت اور حرف و صوت میں ہم آہنگی پیدا کرنا بھی آسان ہوتا ہے اور بھی آسان نہیں بھی ہوتا ہے ۔ جب ضمیر و احساس بھی اتنے ہی لطیف ہوں اور ادب و آداب اور تقدیس و جذب ایمان بھی جاگتا ہو ۔ جہاں جہاں میرا قلم لڑکھڑایا ہو اس کو وفور جذب و محبت کا نام دے کر معاف فرمائیں۔ جہاں گرفت نا قابل رفت و گذشت نہ ہو مجھے
بھی مطلع فرمائیں۔
کمال بے ادبی : ہزار بار بشویم و آن ز مشک و گلاب هنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست نہیں زخم خوردہ خود کلامی کہیں حرف ہائے اشکبار، کہیں بے آواز نالہ دل ، کہیں دل و احساس و ذہن کا حق دلانے والی سطریں۔ آپ کی خدمت میں اس یقین کے ساتھ میں پیش کر رہا
ہوں کہ انسان ہوں۔
یوں تو بارگاہ خداوندی میں متجاوزات اور بے تکلفی تو انسان کر بھی لیتا ہے ( معاذ اللہ ) مگر در بار نبی میں حبیب خدا کے حضور بطور خاص ادب کی جاہے لے نام بھی آہستہ “ حضور کی سیرت کے صد تے بندگان خدا تک خداشناسی اور خودشناسی کا جو سبق پہنچا وہ انسان کو بدل نہیں سکا تو یہ بد بختی ہے۔ جو اس عرفان کو پہنچ جائے ۔ اس کے لئے نبی کریم نعمت و رحمت بھی ہیں اور خدا بھی ان سے تقریب تر ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.