...
آتش زرپا بانو قدسیہ
آتش زرپا بانو قدسیہ
موضوعات :خواتین کی تحریریں
مصنف کا نام: بانو قدسیہ
کتاب کا نام :آتش زرپا
زبان:اردو
صفحات :254
ناشر :کتابی دنیا، دہلی
سن اشاعت :2001
معاون:پی ڈی ایف بک ڈاٹ ان لائن

گھلی گھڑی کی طرح وہ بکھرا رہتا تھا ۔ اس نے کئی راتیں ہمسائے کے چھتنار سے درخت کو کھڑکی میں سے دیکھ کر گزاری تھیں۔ ذی شان کو اس درخت کے پتے ڈالیاں چاندنی راتوں میں خاموش چمک کے ساتھ بہت پر اسرار وحدت لگتی تھیں ۔ وہ سوچتا کہ اتنے سارے پتوں کے باوجود درخت کی اکائی کیسے قائم رہتی ہے ۔ اگر یہ پتے ڈالیوں سے علیحدہ ہو جائیں تو ان بکھر ے بتوں کو کیسے سمیٹا جا سکتا ہے ۔
تب تک اسے معلوم نہیں تھا کہ پتے درخت کے اپنے وجود سے پیدا ہونے والے تھے اور وہ جن خواہشات کی وجہ سے بھرا تھا وہ سب اس کے بیرون سے آئی تھیں۔ کبھی کبھی کار چلاتے ہوئے اسے احساس ہوتا کہ میں طرح جا پانی خودکشی کرتے ہیں اور ہارا کیری کرتے وقت اپنی کھو کھری کے ساتھ تمام انتٹردیاں اور پیٹ کے عضلات نکال پھینکتے ہیں ۔ ایسے ہی اس کے بھی کسی عمل سے اس کا انتر پٹیا بکھر گیا اور اب وہ جلد اور کی مضبوط ڈھال نہیں تھی جس میں اس کے بکھرے ہوئے وجود کو منڈھا جاتا۔ اس بات کا ایک بارا سے ہلکا سا خیال ان چھ ماہ کی چھٹیوں میں آیا تھا ۔ جب اس نے ایف اے کا امتحان دے کر بی اے کے داخلے سے پہلے اپنے لیے بہت لمبے چوڑے پلان بنائے تھے ۔ صبح سوئمنگ پھر ورزش پھر گٹار کے سبق ، شام کو فرنچ کی کلاسیں رائیڈنگ وغیرہ تمام دوستوں کے ساتھ فرداً فردا سچ کا رشتہ ماں باپ کی عزت ، بہن بھائیوں سے محبت ، رشتہ داروں کا پاس
ایف ۔ اے کے امتحانوں سے پہلے اسے نہ دوسروں سے اتنی تو قعات تھیں نہ ہی وہ اپنے وجود کو اس قدر گانٹھ کر رکھتا تھا لیکن امتحانوں کے دنوں میں اس نے بڑی محنت کی پرچے اچھے ہوئے اور پہلی بارا سے احساس ہوا کہ وہ اپنی ذ ات کا محاسبہ اور مواخذہ کیسے بالغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ محاسبہ چاہے کسی غیر کا ہو یا اپنا ہو ہمیشہ کٹرا ہوتا ہے ۔ اس میں چونی دونی کی چھوٹ نہیں ملتی
اس محاسبے تلے وہ بہت جلد کثیر المقاصد ہوتا چلا گیا لیکن ایف اے پاس تھا اس لیے اُسے علم نہ ہو سکا کہ فوارے کی طرح وہ بہت سے چھیدوں میں سے نکل کر پھوار تو بن سکتا ہے آبشار کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ جب تمام تجارتوں کا گیدڑ بننے کی خاطر اسے اپنا سونا ، کھانا پینا ہ رام کپ بازی ترک کرنا پڑ تی تو اندر عاجز آجانے کا خیال ابھرتا اسے لگتا جیسے وہ کسی مبہم سے عارضے میں مبتلا ہے لیکن اس نے اپنے آپ سے ایسی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ اپنے بنائے ہوئے ضابطے سے باہر نکلنا اس کے بس کی بات بھی نہ تھی۔
آن لائن پڑھیے حصہ ساول

آن لائن پڑھیے حصہ دوم
ایک روز وہ الکٹرونک کی ہابی میں مشغول اپنے ارد گرد بہت سے سرکٹوں کے کاغذ چیسیں تاریں گتے کا دیا پھیلائے بیٹھا تھا کہ ماموں آگئے ۔ ماموں خوش زبان ، متوسط طبقے کے کچھ بے فکر سے کچھ ذمے دار آدمی تھے ۔ انھوں نے اپنی کائنات اس قدر نہیں پھیلا رکھی تھی کہ اس کے نیچے انہیں خوف آنے لگے ۔
مچھلی کا شکار کھیلنے جا رہے ہیں ، چلو گے ؟” “ کہاں ماموں ۔ میں یہ چھوٹا س سرکٹ مکمل کرلوں ۔
ماموں آرام سے کرسی میں بیٹھ گئے۔
” ذی شان “
جی ماموں
تم بہت اچھے آدمی ہو
تھینک یو ماموں “

اوپر دیے گئے لنک سے آپ اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے تمام مضامین کو بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.